سوال 7042

السلام علیکم و رحمة الله و برکاته اگر کوئی رشتہ دار آپ کی آپ کے ماں باپ کی بے عزتی کرے، یہاں تک کہ آپ کے فوت شدگان کو بھی نہ بخشے تو اس سے تعلق ملنا جلنا ختم کر دیا جائے؟ اس کے متعلق دین اسلام کا کیا پیغام ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، اس رویے کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے اس کے ذہن میں کچھ الجھنیں ہوں، کچھ تحفظات ہوں یا وہ اپنی بات کہنا چاہتا ہو۔ اگر ہم اپنی جگہ سچے ہیں اور ہمارے والدین (چاہے وہ حیات ہوں یا وفات پا چکے ہوں) اپنی جگہ درست ہیں، تو پھر ہمیں کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ جو کچھ بھی کرے، ہمیں تو ان شاء اللہ اپنے صبر کا اجر ہی ملے گا۔
ہاں، یہ انسانی فطرت ہے کہ کبھی کبھی دل پر بوجھ بن جاتا ہے اور باتیں برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر آپ چاہیں تو ملنا جلنا تھوڑا محدود کر لیں تاکہ آپ کو ذہنی سکون میسر رہے، بس تعلق بالکل ختم نہ کریں۔ ایک مناسب دائرے میں رہ کر واسطہ رکھنا بالکل جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ