سوال 7044

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مشائخ کرام ایک سوال آیا ہے فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کے بیان سے متعلق
میں نے اپنی کتاب توضیح الکلام کا ایک ایک لفظ شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کو پڑھ کر سنایا، اس میں جو کچھ ہے، شاہ صاحب کا فیضان ہے۔ محدث العصر ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ
سيرت النبی کانفرنس نیو سعید آباد سندھ
کیا یہ بزرگوں کے فیض سے ملتی جلتی بات نہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر آپ کی مراد صوفیوں والا بزرگوں سے فیض ہے، تو یہ بالکل وہ نہیں ہے۔
اس میں انہوں نے فیض کی صورت بھی بیان کر دی ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ انہوں نے سماعت کیا ہے، یہ نظرثانی اور تصحیح کی اعلی ترین صورت ہے، اسی طرح شیخ محترم اس کتاب کی تصنیف و تالیف کے دوران شاہ صاحب کے علم و تحقیق سے بھرپور استفادہ کیا ہوگا، جس کا یہ اعتراف ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

السلام علیکم! یہاں ’کسبِ فیض‘ کی جو اصطلاح استعمال ہوئی ہے، اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی سے علم سیکھنا یا فائدہ اٹھانا۔ شیخ یہاں یہی سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ انہوں نے شیخ العرب والعجم رحمہ اللہ سے براہِ راست علم حاصل کیا، یا تو انہیں خود سنا یا ان سے سنا۔
یاد رہے کہ یہ زندگی کے دور کی بات ہو رہی ہے، اس کا موت کے بعد والے نام نہاد ’فیض‘ سے کوئی لینا دینا نہیں کہ جی مرنے کے بعد بھی فیضان جاری رہتا ہے۔ جب ہم کسبِ فیض کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد ان کی زندگی میں ان کے علم سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ اس بات کو صوفیانہ اصطلاحات یا مفتی تقی عثمانی صاحب کے اس بیان کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا کہ وفات کے بعد فیض بڑھ جاتا ہے۔ وہ ایک الگ نظریہ ہے جو کہ درست نہیں، جبکہ یہاں بات صرف علمی استفادے کی ہو رہی ہے۔ یہ دونوں بالکل الگ باتیں ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ