سوال 7045
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
شیخ، ایک سوال پوچھنا تھا کہ اگر کوئی شخص دھوکہ دہی یا فراڈ کے کاموں میں ملوث ہو، جیسے اکثر لوگ فون کالز کے ذریعے لوگوں سے پیسے بٹورتے ہیں، تو کیا ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی لین دین کرنا جائز ہے؟
مثلاً اگر ہم ان کے بچوں کو گھر جا کر قرآن پاک یا دین کی تعلیم دیں، یا ان کے کپڑے وغیرہ سلائی کریں، جبکہ ہمیں یقین ہو کہ ان کی آمدنی کا ذریعہ غلط ہے، تو کیا ان سے ایسی خدمات کے بدلے اجرت (fees) لینا شرعی طور پر صحیح ہے؟ کیا ان کا کام کرنا اور اس کے بدلے پیسے لینا ہمارے لیے درست ہوگا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، اصول یہ ہے کہ کسی کے گناہ کے کاموں میں ہمیں ان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ البتہ جہاں تک جائز کاموں کا تعلق ہے، جیسے ان کے بچوں کو پڑھانا، کپڑے سینا یا کسی بھی حلال کام کا آرڈر لینا، تو اس میں کوئی حرج نہیں اور آپ یہ کام بالکل کر سکتے ہیں۔
دنیا میں لاکھوں طرح کے لوگ ہیں اور وہ کیا کچھ کرتے ہیں، ہم ان کے جوابدہ نہیں ہیں۔ ہاں، جب کسی کے بارے میں واضح ہو جائے کہ ان کا کام غلط ہے، تو احتیاط اور تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ان سے تعلق کم سے کم رکھا جائے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے لیے جائز کام کر کے پیسے کمانے سے آپ کی کمائی یا دین خراب ہو جائے گا۔ گناہ ان کا اپنا ہے، آپ اپنے جائز کام کی حلال اجرت لے سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




