سوال (6374)

کیا فرماتے ہیں علمائے دین بمطابق شرح متین کہ زید نے 3 نوٹس طلاق کے ہندہ کو بھیجے مگر ہندہ کو ایک ہی وقت میں 3 نوٹس موصول ہو ہے۔ وہ 3 نوٹسز ایک ہی وقت میں دی جانے والی ایک ہی طلاق شمار ہونگے؟ کیونکہ ہندہ کو ایک ہی وقت اور ایک ہی نشست میں ملے۔ اگرچہ نوٹسز زید نے مختلف تواریخ میں نکلوا رکھے تھے جو قانونی تقاضہ تو ہے مگر شرعاً طلاق گرہندہ کو جس وقت و نشست میں نوٹسز ملے اعتبار اس کا ہوگا. اور اندریں حالات میں 3 ماہ کے اندر رجوع ممکن ہے؟ یا ہر ماہ کے بعد خود بخود 2 اور 3 طلاق بھی واقع ہو جائے گی؟ اور کیا 3 ماہ کے بعد اگر زوجین رجوع کرنا چاہیں تو محض رجوع یا رضامندی مابین زوجین کافی ہے یا تجدید نکاح مابین زوجین ضروری ہے؟ کیا 3 ماہ کے بعد ہندہ زید پہ بعد از نکاح ثانی حلال ہو گی؟ بینو توجرو، سائل ایڈووکیٹ ذیشان بھٹی۔

جواب

آپ کے سوال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ زید نے 3 نوٹسز طلاق کے ہندہ کو بھیجے مگر ہندہ کو ایک ہی وقت میں 3 نوٹسز موصول ہوئے۔ آپ کا سوال ہے کہ کیا یہ 3 نوٹسز ایک ہی وقت میں دی جانے والی ایک ہی طلاق شمار ہوں گے کیونکہ ہندہ کو ایک ہی وقت اور ایک ہی نشست میں ملے، اگرچہ نوٹسز زید نے مختلف تواریخ میں نکلوا رکھے تھے۔
اس حوالے سے گزارش ہے کہ طلاق کا اعتبار اس کے اِلقاء (یعنی شوہر کی جانب سے طلاق دینے، کہنے یا تحریر کرنے) سے ہوتا ہے، نہ کہ بیوی کو اس کے وُصول (ملنے) سے۔
اس صورت میں جبکہ زید نے تین مختلف تواریخ پر طلاق کے نوٹسز جاری کیے ہیں، ہر نوٹس ایک مستقل طلاق دینے کا عمل ہے۔ اگرچہ یہ نوٹسز ہندہ کو ایک ہی وقت میں ملے ہوں، شرعاً یہ تین الگ الگ طلاقیں شمار ہوں گی۔ نوٹسز پر درج تواریخ اس بات کی دلیل ہیں کہ طلاق کے یہ اقدامات الگ الگ وقتوں پر کیے گئے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ طلاق خود بخود واقع نہیں ہوتی، بلکہ شوہر کے دینے سے ہی واقع ہوتی ہے۔
جہاں تک رجوع کی بات ہے تو چونکہ مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، اس لیے یہ “طلاق بائنہ” کے زمرے میں آتی ہے۔ ایسی صورت میں عدت کے اندر بھی رجوع ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ رجوع صرف پہلی اور دوسری طلاق کے بعد ممکن ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں، ہندہ اب زید پر اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ “حلالہ” کی شرعی شرط پوری نہ ہو جائے۔ جس کا طریقہ یہ ہے:
1. ہندہ کی عدت (تین حیض یا تین ماہ یا حاملہ ہے تو وضع حمل) پوری ہو جائے۔
2. عدت پوری ہونے کے بعد ہندہ کسی دوسرے شخص سے شرعی طریقے کے مطابق بسنے کی غرض سے نکاح کرے۔
3. اس دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کے بعد صحبت (دخول صحیح) واقع ہو۔
4. پھر وہ دوسرا شوہر ہندہ کو اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے۔
5. دوسرے شوہر کی طلاق کے بعد ہندہ اپنی عدت پوری کرے۔
6. یہ ساری شرائط پوری ہونے کے بعد، اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ دوسرے شوہر سے نکاح اور اس کے بعد طلاق یا وفات کا عمل فطری طور پر ہونا چاہیے، کسی سابقہ شرط یا ساز باز کے تحت نہیں، کیونکہ ایسا حلالہ شرعاً باطل اور حرام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!
نوٹ: سوال میں ’ہندہ’ لفظ استعمال کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے جواب میں بھی ’ہندہ’ ہی لکھا گیا ہے، ورنہ صحیح لفظ ’ہند’ ہے، ’ہ’ کے بغیر۔ مشہور صحابیہ ’ہند بنت ابی سفیان’ ہیں، رضی اللہ عنہما۔

فضیلۃ العالم حافظ  خضر حیات حفظہ اللہ