سوال 7653
السلام علیکم محترم ایک سوال ہے کہ اگر کوئی شخص نماز ہو رہی ہے اور دو رکعت ہو چکی ہے وہ تب آیا ہے اور وہ مسافر ہے کیا وہ دو رکعت جو رہ گئی ہے وہ پڑھے گا یا پوری نماز پڑھے گا رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
امام کی اقتداء میں مکمل ہی پڑھیں گے، چاہے آپ مسافر ہیں، مسافر کیلئے ضروری ہے کہ مقیم امام کے پیچھے پوری نماز پڑھے خواہ وہ مقیم امام کے ساتھ ابتدا میں داخل ہو یا درمیان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ
امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 378)
دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا
جو نماز تم امام کے ساتھ پا لو وہ پڑھو اور جو تم سے رہ گئی تھی اس کو پورا کر لو
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 635)
یہ دونوں احادیث اپنے حکم میں مسافر اور مقیم، دونوں کو شامل ہیں، لہٰذا جس طرح مقیم شخص امام کی اقتدا کرتا ہے، اسی طرح مسافر بھی امام کی اقتدا کرے گا، نیز جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے اگر کچھ رکعات رہ جائیں تو نماز مکمل کرنے کے لیے انہیں بعد میں ادا کیا جائے گا، یہ حکم مسافر اور مقیم دونوں کے لیے یکساں ہے، عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں:
فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّى مَعَ الإِمَامِ صَلَّى أَرْبَعًا، وَإِذَا صَلَّاهَا وَحْدَهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار رکعت پڑھتے اور جب اکیلے پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 1592)
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جتنی امام نے پڑھی ہیں وہ اتنی ہی پڑھے گا۔
امام مقیم ہو تو پھر مسافر کو بھی مقیم والی نماز پڑھنی ہوگی۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




