سوال 7144
السلام علیکم!
کیا حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ نہیں ہوا تھا شیعہ عالم نے اعتراض کیا ابو طالب کے جنازے کے جواب میں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بالفرض اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ نہیں ہوا تھا، تب بھی اس بنیاد پر ابو طالب کا اسلام کیسے ثابت ہو جائے گا؟ کیونکہ دونوں معاملات میں واضح فرق ہے۔
مثال کے طور پر، اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا جنازہ نہیں ہوا، تو ان کے بارے میں وہ نصوص وارد نہیں ہوئیں جو ابو طالب کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔
ابو طالب کے بارے میں صحیح روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے وفات کے وقت کہا: “میں عبد المطلب کے دین پر ہوں”۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ انہیں “فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ” یعنی جہنم کے ہلکے عذاب میں رکھا جائے گا، یہاں تک کہ ان کے پاؤں کے نیچے دو انگارے رکھے جائیں گے جن کی وجہ سے ان کا دماغ کھولنے لگے گا۔
اسی طرح آیت:
﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ﴾
بھی اسی تناظر میں نازل ہوئی بیان کی جاتی ہے۔
لہذا یہ تمام امور ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد نہیں ہوئے، اس لیے دونوں کا تقابل درست نہیں۔ یہ قیاس مع الفارق ہے، اور تقابل غیر محل میں ہو رہا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




