سوال 7149
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ جو بعض لوگ اپنی کاسٹ تبدیل کر لیتے ہیں، کیا یہ گناہ نہیں ہے؟ ان کی کاسٹ اور ہوتی ہے، الگ رہائش پذیر ہو کر کوئی اور کاسٹ رکھ لیتے ہیں کہ ہم قابل اکرام نظر آئیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
صحیح بخاری میں حدیث ہے:
“المتشبّع بما لم يُعطَ كلابس ثوبي زور”
یعنی جو شخص اس چیز کا دعویٰ کرے جو اسے دی ہی نہیں گئی، وہ گویا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے؛ یعنی وہ سراپا جھوٹ میں ملوث ہے۔
لہذا جب کسی شخص کا اصل نسب کچھ اور ہو، کاسٹ کچھ اور ہو، لیکن وہ محض قابلِ اکرام یا بڑا ظاہر ہونے کے لیے دوسرا نام اور دوسری کاسٹ اختیار کر لے، مارکیٹ میں اسی نام سے معروف ہو جائے اور اپنے آپ کو بڑا مقام والا سمجھنے لگے، تو یہ طرزِ عمل حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ ایسا شخص گویا جھوٹ کے لبادے پہنے ہوئے ہے۔
کیونکہ جھوٹ، جھوٹ ہی ہوتا ہے، وہ ہمیشہ نہیں چلتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إيّاكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار۔
یعنی: “جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔”
لہذا انسان کو چاہیے کہ اپنی اصل پہچان اور نسب میں سچائی اختیار کرے، خواہ وہ بظاہر کم حیثیت ہی کیوں نہ محسوس ہو۔
فضیلۃ الشخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




