سوال 7151
کیا بے نماز کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانا چاہیے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بہت سے اہلِ علم کے فتاویٰ موجود ہیں کہ وہ شخص جو مستقل اور دائمی طور پر نماز سے دور ہو، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ بعض اہلِ علم نے یہ بھی کہا کہ اسے غسل نہ دیا جائے، کفن نہ دیا جائے، اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے، اور اس کی میراث کی تقسیم بھی نہ کی جائے۔ اس حوالے سے اہلِ علم کے اپنے اپنے فتاویٰ موجود ہیں۔
البتہ ہمارے معاشرے میں ایسا بدبخت شاید ہی کوئی ہو جو بالکل نماز سے ہی منقطع ہو۔ عموماً لوگ کسی نہ کسی درجے میں نماز پڑھتے ہیں؛ کوئی ایک پڑھنے والا ہے، کوئی دو، کوئی چار۔
لہذا اگر اس کا عقیدہ سلامت ہے، تو اس باب میں گنجائش کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔ خصوصاً اس لیے کہ ہمارے پاس ایسے خاطر خواہ اختیارات بھی نہیں ہیں کہ ہم اس مسئلے کو بنیاد بنا کر اٹھ کھڑے ہوں اور ایک نیا دروازہ کھل جائے یا فتنہ برپا ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




