سوال 7147
کیا لفظ “مولا” کسی اور کیلئے ثابت ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سیدنا زید بن ثابتؓ کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: أنت أخونا ومولانا یعنی: تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ مولیٰ کا استعمال غیر اللہ کے لیے بھی ہوا ہے۔
اسی طرح سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ کی مثال بھی معروف ہے، اور اس نوعیت کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
البتہ ناصرِ حقیقی اور غیبی مددگار کے معنی میں مولیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وہ صفات اور نام جو صرف رب العالمین کے ساتھ خاص ہیں ان کا اطلاق و استعمال مخلوق پر کرنا حرام اور شرک ہے۔
مگر جن نام اور صفات کا اطلاق خالق و مخلوق میں ہوا ہے اور جس معنی میں ہوا ہے اس کا استعمال و اطلاق شرک نہیں جیسے الله تعالی سمیع و بصیر ہیں اور مخلوق کو بھی قرآن کریم میں سمیع و بصیر کہا گیا ہے ،الله تعالی رؤف ہیں تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو رؤف کہا گیا ہے تو یہ اشتراک لفظی اعتبار سے ہے اور ایک حد تک ہے
اور مخلوق کی صفت سمیع و بصیر مخلوق اور فانی ایک حد تک ہے جبکہ رب العالمین کی صفت غیر مخلوق،غیر فانی لا محدود ہے۔
بہرحال لفظ مولی جس معنی میں رب العالمین کے لئے استعمال ہوا اس معنی میں کسی اور کے لئے استعمال کرنا گناہ کبیرہ ہے اور شرک ہے. قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے:
“أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ”
آپ ہی ہمارے مالک ہیں ، سو کافر لوگوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرمائیں۔
البقرہ:(286)
ثقہ سنی امام ابن جریر الطبری
اس کی تفسیر میں کہتے ہیں:
ﺃﻧﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ، ﺃﻧﺖ ﻭﻟﻴﻨﺎ ﺑﻨﺼﺮﻙ، ﺩﻭﻥ ﻣﻦ ﻋﺎﺩاﻙ ﻭﻛﻔﺮ ﺑﻚ، ﻷﻧﺎ ﻣﺆﻣﻨﻮﻥ ﺑﻚ، ﻭﻣﻄﻴﻌﻮﻙ ﻓﻴﻤﺎ ﺃﻣﺮﺗﻨﺎ ﻭﻧﻬﻴﺘﻨﺎ، ﻓﺃﻧﺖ ﻭﻟﻲ ﻣﻦ ﺃﻃﺎﻋﻚ، ﻭﻋﺪﻭ ﻣﻦ ﻛﻔﺮ ﺑﻚ ﻓﻌﺼﺎﻙ ،”ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر الطبری : 6/ 141
تفسیر السمعانی میں یوں توضیح ہے
ﺃﻧﺖ ﻧﺎﺻﺮﻧﺎ ﻭاﻟﻘﻴﻢ ﺑﺄﻣﻮﺭﻧﺎ. {ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ}
تفسیر السمعانی :1/ 289
تفسیر البغوی:1/ 404 میں ہے
ﺃﻧﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻧﺎﺻﺮﻧﺎ ﻭﺣﺎﻓﻈﻨﺎ ﻭﻭﻟﻴﻨﺎ، ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ.
تفسیر القرطبی :3/ 426 میں ہے
ﺃﻧﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ، ﻳﻌﻨﻲ ﻭﻟﻴﻨﺎ ﻭﺣﺎﻓﻈﻨﺎ، ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ
حافظ ابن کثیر الدمشقی نے کہا:
ﺃﻱ: ﺃﻧﺖ ﻭﻟﻴﻨﺎ ﻭﻧﺎﺻﺮﻧﺎ، ﻭﻋﻠﻴﻚ ﺗﻮﻛﻠﻨﺎ، ﻭﺃﻧﺖ اﻟﻤﺴﺘﻌﺎﻥ، ﻭﻋﻠﻴﻚ اﻟﺘﻜﻼﻥ، ﻭﻻ ﺣﻮﻝ ﻭﻻ ﻗﻮﺓ ﻟﻨﺎ ﺇﻻ ﺑﻚ {ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ}
ﺃﻱ: اﻟﺬﻳﻦ ﺟﺤﺪﻭا ﺩﻳﻨﻚ، ﻭﺃﻧﻜﺮﻭا ﻭﺣﺪاﻧﻴﺘﻚ، ﻭﺭﺳﺎﻟﺔ ﻧﺒﻴﻚ، ﻭﻋﺒﺪﻭا ﻏﻴﺮﻙ، ﻭﺃﺷﺮﻛﻮا ﻣﻌﻚ ﻣﻦ ﻋﺒﺎﺩﻙ، ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻴﻬﻢ، ﻭاﺟﻌﻞ ﻟﻨﺎ اﻟﻌﺎﻗﺒﺔ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﻓﻲ اﻟﺪﻧﻴﺎ ﻭاﻵﺧﺮﺓ
تفسیر ابن کثیر:1/ 738
تفسیر الجلالین :ص:64 میں ہے
ﺳﻴﺪﻧﺎ ﻭﻣﺘﻮﻟﻲ ﺃﻣﻮﺭﻧﺎ {ﻓﺎﻧﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ}
علامہ شوکانی نے کہا:
ﺃﻱ: ﻭﻟﻴﻨﺎ ﻭﻧﺎﺻﺮﻧﺎ
فتح القدير:1/ 354
تفسیر التحریر والتنویر :3/ 141 میں یوں توضیح ہے
ﻭﻗﻮﻟﻪ: ﺃﻧﺖ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻓﺼﻠﻪ ﻷﻧﻪ ﻛﺎﻟﻌﻠﺔ ﻟﻠﺪﻋﻮاﺕ اﻟﻤﺎﺿﻴﺔ: ﺃﻱ ﺩﻋﻮﻧﺎﻙ ﻭﺭﺟﻮﻧﺎ ﻣﻨﻚ ﺫﻟﻚ ﻷﻧﻚ ﻣﻮﻻﻧﺎ، ﻭﻣﻦ ﺷﺄﻥ اﻟﻤﻮﻟﻰ اﻟﺮﻓﻖ ﺑﺎﻟﻤﻤﻠﻮﻙ۔۔۔۔۔
تفسیر السعدی میں ہے
ﺃﻱ: ﺭﺑﻨﺎ ﻭﻣﻠﻴﻜﻨﺎ ﻭﺇﻟﻬﻨﺎ اﻟﺬﻱ ﻟﻢ ﺗﺰﻝ ﻭﻻﻳﺘﻚ ﺇﻳﺎﻧﺎ ﻣﻨﺬ ﺃﻭﺟﺪﺗﻨﺎ ﻭﺃﻧﺸﺄﺗﻨﺎ ﻓﻨﻌﻤﻚ ﺩاﺭﺓ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﻣﺘﺼﻠﺔ ﻋﺪﺩ اﻷﻭﻗﺎﺕ، ﺛﻢ ﺃﻧﻌﻤﺖ ﻋﻠﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﻨﻌﻤﺔ اﻟﻌﻈﻴﻤﺔ ﻭاﻟﻤﻨﺤﺔ اﻟﺠﺴﻴﻤﺔ، ﻭﻫﻲ ﻧﻌﻤﺔ اﻹﺳﻼﻡ اﻟﺘﻲ ﺟﻤﻴﻊ اﻟﻨﻌﻢ ﺗﺒﻊ ﻟﻬﺎ، ﻓﻨﺴﺄﻟﻚ ﻳﺎ ﺭﺑﻨﺎ ﻭﻣﻮﻻﻧﺎ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻚ ﺑﺄﻥ ﺗﻨﺼﺮﻧﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻘﻮﻡ اﻟﻜﺎﻓﺮﻳﻦ
تو جس معنی میں رب العالمین مولی ہیں اس معنی میں کو کسی اور کو شامل ومتصف کرنا کھلی گمراہی اور شرک ہے
اب ہم من كنت مولاه فعلي مولاه کے تحت کچھ تفصیل پیش کرتے ہیں ملاحظہ کریں:
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ﻣﻦ ﻛﻨﺖ ﻣﻮﻻﻩ ﻓﻬﺬا ﻣﻮﻻﻩ، اﻟﻠﻬﻢ ﻭاﻝ ﻣﻦ ﻭاﻻﻩ، ﻭﻋﺎﺩ ﻣﻦ ﻋﺎﺩاﻩ ﻗﺎﻝ: ﻓﺨﺮﺟﺖ ﻭﻛﺄﻥ ﻓﻲ ﻧﻔﺴﻲ ﺷﻴﺌﺎ، ﻓﻠﻘﻴﺖ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺭﻗﻢ ﻓﻘﻠﺖ ﻟﻪ: ﺇﻧﻲ ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻴﺎ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﺬا ﻭﻛﺬا، ﻗﺎﻝ: ﻓﻤﺎ ﺗﻨﻜﺮ؟ ﻗﺪ ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ ﺫﻟﻚ ﻟﻪ
مسند أحمد بن حنبل :(19302) فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل :(1167) ،مسند البزار:(492) ،السنن الکبری للنسائی :(8424) ،صحیح ابن حبان:(6931) وغيره سنده حسن لذاته
اس حدیث پر امام نسائی نے یوں باب باندھا ہے
اﻟﺘﺮﻏﻴﺐ ﻓﻲ ﻣﻮاﻻﺓ ﻋﻠﻲ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻭاﻟﺘﺮﻫﻴﺐ ﻓﻲ ﻣﻌﺎﺩاﺗﻪ یعنی سیدنا علی المرتضی سے محبت کی ترغیب اور ان سے دشمنی پر ڈرانا
امام ابن حبان یوں عنوان قائم کرتے ہیں:
ﺫﻛﺮ ﺩﻋﺎء اﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺑﺎﻟﻮﻻﻳﺔ ﻟﻤﻦ ﻭﻟﻲ ﻋﻠﻴﺎ ﻭاﻟﻤﻌﺎﺩﺓ ﻟﻤﻦ ﻋﺎﺩاﻩ
دوسری حدیث کے الفاظ ہیں:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻲ، ﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ، ﻧﺎ ﺷﻌﺒﺔ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻭﻫﺐ ﻗﺎﻝ: ﻧﺸﺪ ﻋﻠﻲ اﻟﻨﺎﺱ، ﻓﻘﺎﻡ ﺧﻤﺴﺔ ﺃﻭ ﺳﺘﺔ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺸﻬﺪﻭا ﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ ﻛﻨﺖ ﻣﻮﻻﻩ ﻓﻌﻠﻲ ﻣﻮﻻﻩ
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل :(1021)
مسند أحمد بن حنبل :(23107)،السنن الکبری للنسائی:(8417) وغيره سنده صحيح
((امام احمد بن حنبل سے جب اس حدیث کا معنی پوچھا گیا))
ﻭﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﻄﺮ، ﺃﻥ ﺃﺑﺎ ﻃﺎﻟﺐ ﺣﺪﺛﻬﻢ ﻗﺎﻝ: ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻋﻦ ﻗﻮﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻌﻠﻲ: ﻣﻦ ﻛﻨﺖ ﻣﻮﻻﻩ ﻓﻌﻠﻲ ﻣﻮﻻﻩ ، ﻣﺎ ﻭﺟﻬﻪ؟ ﻗﺎﻝ: ﻻ ﺗﻜﻠﻢ ﻓﻲ ﻫﺬا، ﺩﻉ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻛﻤﺎ ﺟﺎء
السنة للخلال :(461)
لفظ مولی کو بغیر کسی خاص دلیل کے کسی خاص معنی میں لینا باطل ہے۔
کیونکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ کے لیے بھی فرمایا تھا:
أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا
صحیح البخاری :(2699)
((مولی کے لغت عربی میں کئ معانی ہیں:))
جیسے:
رب،جار،دوست،منعم،مالک،سید،معتق،ناصر،محب،
حلیف عبد وغیرہ
یہاں پر صرف ولاء الإسلام یعنی اسلام کی دوستی مراد ہے
تفصیل دیکھیے تأويل مختلف الحديث:ص:93 ،شرح سنن ابن ماجة للسيوطى:ص:12 ، فیض القدیر :6/ 217تحفة الأحوزي:10/ 147 ،148 ،شرح مشکل الآثار :5/ 24:(1770) ،11/ 45 ،النهاية في غريب الأثر:5/ 510 ،غريب الحديث للقاسم بن سلام :3/ 141 ،142
سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کو جس نظریہ وعقیدہ سے لوگ مولی کہتے ہیں یہ نظریہ وعقیدہ کھلا کفر وشرک ہے اور سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کا خود سے یہ دعوی کرنا ثابت نہیں ہے نہ ہی انہوں نے اس کی تعلیم و وصیت کی نہ ہی اہل بیت میں سے کسی نے انہیں اہل تشیع،اہل بدعت کی طرح مولی مشکل کشا وغیرہ کہا تھا۔
رب العالمین ہمیں کتاب وسنت کو صحابہ کرام ،اہل بیت اور سلف صالحین کی طرح سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




