سوال 7148

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اگر کسی کو شرکیہ یا کفریہ کلمات کہنے پر مجبور کر دیا جائے اور جان کا خطرہ ہو تو کیا کرے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کوشش تو انسان یہی کرے کہ عزیمت کا راستہ اختیار کرے اور قربانی دینا سیکھے۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے مکھی چڑھانے سے انکار کر دیا تھا کہ “میں مزار پر مکھی نہیں چڑھاؤں گا”، حتیٰ کہ اس کی جان چلی گئی۔ بہرحال زندگی کا وقت تو مقرر ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص اتنی قوتِ ایمانی اور عزیمت نہ پا سکے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کا دل اللہ اور رسول ﷺ کی محبت، ایمان اور اسلام پر مضبوطی سے قائم ہو۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:

﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾

یعنی اگر کسی کو مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو، تو قرآن نے رخصت دی ہے کہ جان بچانے کے لیے ایسا کلمہ کہہ سکتا ہے جو بظاہر کفر کے زمرے میں آتا ہو۔
لہذا یہ رخصت بہرحال موجود ہے، لیکن اس کا استعمال ایسا نہ ہو کہ دین و ایمان تماشہ بن کر رہ جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس صورت میں جہاں تک استقامت اختیار کر سکتے ہیں کریں اور اگر کوئی نجات کی صورت نظر نہیں آ رہی تو ان کی مراد و چاہت کے کلمات کہہ دینے سے کفر وشرک لازم نہیں آتا جب تک بندہ مومن کا دل ایمان و توحید پر قائم ہے۔
قرآن کریم کی آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ