سوال 7150
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ قربانی کی فرضیت کے لیے کیا ضروری ہے؟ یعنی قربانی کس شخص پر فرض ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو انسان بھی آسانی کے ساتھ جانور خرید لے کر ذبح کر سکتا ہے وہ صاحب استطاعت ہے۔ یعنی اس کے اوپر کسی قسم کا کوئی مالی دباؤ نہ آئے۔ اپنے آپ کو مالی مشکلات کا شکار نہ کرے۔ تو اس پر قربانی فرض ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے نزدیک قربانی، وسعت اور گنجائش رکھنے والے کے لیے سنتِ مؤکدہ کے درجے میں ہے۔ مزید دلائل اور فہمِ سلف بھی زیادہ تر اسی موقف کی طرف مأخوذ اور اشارہ کناں نظر آتے ہیں۔
لہذا اس مسئلے میں ترغیبی پہلو کو غالب رکھنا چاہیے، تاکہ صاحبِ استطاعت مسلمان اس عظیم شعیرہ کو اہتمام کے ساتھ ادا کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
قربانی کی فرضیت قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ہے یعنی اس کی فرضیت پر کوئی صحیح و صریح دلیل موجود نہیں ہے۔
نہ ہی صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین ،تابعین عظام اور ائمہ محدثین سے کوئی قربانی کی فرضیت کا موقف رکھتا تھا۔
بلکہ صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین قربانی کو واجب نہیں سمجھتے تھے اور سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ تو واضح الفاظ میں اسے معروف سنت کہتے تھے ( تغليق العليق:5/ 3
اسی طرح امام مالک،امام شافعی،امام أحمد،امام ترمذی ،امام سفیان ثوری ،امام ابن المبارک ،امام بیھقی،ابن حزم اندلسی قربانی کے وجوب کا موقف نہیں رکھتے تھے بلکہ اسے سنت کہتے اور سمجھتے تھے۔
تو قربانی جیسا عمل سنت مؤکدہ ہے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کا پابندی سے اہتمام کیا اسی طرح سلف صالحین بھی اس کا اہتمام کرتے تھے بعض کبار سلف صالحین اس لئے قربانی ترک کرتے کہ لوگ اسے واجب نہ سمجھ لیں۔
اس لئے ہر صاحب استطاعت کو قربانی کا اہتمام کرنا چاہیے ہے کہ امام شافعی اسے سنت کا موقف رکھنے کے باوجود ترک کرنا ناپسند کرتے تھے۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




