سوال 7160
شیخ بطور مثال ایک گھر میں چھ بھائی ہیں سب اپنا کماتے ہیں رہتے ایک ہی گھر میں ہیں والد صاحب اپنا کماتے ہیں کیا سب الگ الگ قربانی کریں گے؟ کیونکہ وہ سب الگ الگ کما رہے ہیں کسی کے زیر کفیل تو ہیں نہیں۔
جواب
قربانی کے احکام
قربانی مرد اور عورت دونوں کے لئے سنت مؤکدہ ہے اور ایک ہی قربانی پورے گھر والوں کی طرف سے کافی ہے۔
ایک ساتھ ایک گھر میں رہنے والے دو بھائی ایک ہی قربانی پر اكتفاء کر سکتے اگرچہ دو الگ الگ فیملی ہوں۔
ایک باپ اپنے تین شادی شدہ بیٹوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور گھر کے اندر ان میں سے ہر ایک کا الگ حصہ ہے،تو سب کو الگ الگ قربانی کرنی چاہئے کیونکہ سب کے گھر مستقل ہیں۔
اگر سب کا کھانا پینا ایک ساتھ ہو تو ایک قربانی سب کے لئے کافی ہوگی، بڑا بھائی اپنی اور سارے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کر دے۔
اگر ہر ایک کا کھانا پینا (كچن) الگ الگ ہو تو سب کو اپنی اپنی قربانی کرنی ہوگی۔
اگر ایک شخص کی دو بیویاں ہیں ایک اس کے ساتھ ہے اور دوسری اپنے والدین کے گھر تو پھر جہاں رہ رہا ہے وہاں ایک قربانی کر دے سب کے لئے کافی ہوگی چونکہ دوسری بیوی بھی اس کے اہل خانہ میں سے ہے اگرچہ والدین کے گھر میں رہ رہی ہے۔
فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ
سب کما کر ایک ہی گھر چلا رہے ہیں تو گھر کا بڑا قربانی کرے گا باقی اس میں شریک ہوں گے۔ اور اگر سب کما کر الگ الگ گھر چلا رہے تو پھر قربانی بھی الگ الگ ہو گی۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ




