سوال 7062
السلام علیکم شیخ محترم
ایک جانور ہے جسکی ایک خصیہ نہیں ہے کیا قربانی جائز ہے اسکی؟
جواب
وعلیکم السلام! جی بالکل، ایسے جانور کی قربانی بالکل جائز ہے۔ اگر کسی جانور کے دونوں کپورے (خصیے) نہ بھی ہوں، تب بھی اس کی قربانی جائز ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایسا جانور جس کے تھنوں میں نقص ہو یا خصیہ میں نقص ہو تو اس کی قربانی جائز ہے. یہ قربانی میں مانع نقائص میں سے نہیں.
قربانی میں مانع نقائص اس حدیث میں صراحتاً منقول ہیں:
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا لَا يَجُوزُ فِي الأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَأَنَامِلِي أَقْصَرُ مِنْ أَنَامِلِهِ، فَقَالَ: أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ، قَالَ: مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ لَهَا مُخٌّ. [سنن ابوداؤد: 2802]
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ ﷺ کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ ﷺ نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو, دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( لا تنقى کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔
سندہ,صحیح
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




