سوال 7061
السلام عليكم و رحمة اللہ وبرکاتہ
ایک مقتدی کا سوال ہے وہ کہتے ہیں
ان کے والد صاحب 4 بھائی ہیں اور دادا حیات ہیں ان کی عمر تقریبا 95 سال ہے اور ہوش وحواس قائم ہیں اور صحت بھی موجود ہے کوئی کسی قسم کی بیماری نہیں ہے لیکن ان کا ایک مسئلہ ہے کہ وہ ہر کسی کو طنز کرتے ہیں حتی کہ مسجد میں ائے کسی نمازی کو بھی نہیں چھوڑتے، جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آئے روز ان کی وجہ سے لڑائی ہوتی ہے
ان کے 3 بیٹوں نے ان کو گھر سے ہاتھ پکڑ کر نکال دیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ ہمارے گھر میں داخل نہ ہونا
اب ایک بیٹے (مسئول کے والد) نے اپنے گھر رکھا ہے اور وہ تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں لیکن دادا کی زبان کی وجہ سے ہر روز کسی نہ کسی مسئلے اور آزمائش میں مبتلا ہیں اگر باپ کو کچھ کہتے ہیں تو اللہ کا ڈر غالب آ جاتا ہے لیکن اگر خاموش رہتے ہیں ہر روز کوئی نئی دشمنی مول لینی پڑتی یے.
اس کا کوئی حل بتائیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ چاہے معاملہ والدین کا ہو یا اولاد کا، بڑے ہوں یا چھوٹے، ہمیں چاہیے کہ حکمت اور بہترین طریقے سے انہیں غلط کام سے روکیں۔ اگر اس کے لیے تھوڑی سختی بھی کرنی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے کسی کو وہاں سے زبردستی ہٹا دینا، ہاتھ پکڑ لینا یا ہاتھ رکھ کر روک دینا، تو ان شاء اللہ اس کا اثر ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہیں، اللہ نے چاہا تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بس مقصد انہیں ہر حال میں برائی سے بچانا ہے، اور اس میں کوئی برائی نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




