سوال 7652

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نمازی کے آگے سے بالغ عورت گزر جائے تو نماز دوہرائی جائے گی؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
اگر عورت نمازی کے سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہوگی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی ، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا ، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے۔‘‘ (توڑ دیں گے)
میں نے کہا : اے ابوذر ! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا تھا : سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 1137]
ایک حدیث میں الفاظ ہیں وہ نماز لوٹائی جائے گی۔
جناب عبداللہ بن صامت رحمه الله سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گدھے، عورت اور سیاہ کُتّے (کے نمازی کے آگے) سے گزرنے کی وجہ سے نماز لوٹائی جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ سیاہ کُتّے کا زرد یا سرخ کُتّے سے فرق ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”سیاہ کُتّا شیطان ہے۔“
[صحيح ابن خزيمه حدیث نمبر : 831]
البتہ اگر کوئی عورت سامنے لیٹی ہوئی ہو تو نماز درست ہے۔
نبی کریم ﷺ اس بچھونے پر نماز پڑھتے جس پر آپ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سوتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں۔
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 384]

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی کریم ﷺ نے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر گزرنے والے کو یہ پتہ چل جائے کہ اس پر کتنا گناہ ہے، تو وہ سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس (دن، مہینے یا سال) تک وہاں کھڑا رہنے کو بہتر سمجھے گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی سنجیدہ بات ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟ اس بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں:
کچھ احادیث میں ذکر ملتا ہے کہ “سیاہ کتا، عورت اور گدھا نماز کو کاٹ دیتے ہیں”، جس کی بنیاد پر بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ان کے گزرنے سے نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔ لیکن دوسری طرف ہمیں ایسی روایات بھی ملتی ہیں جہاں رسول اللہ ﷺ نے نماز کے دوران کسی کو سامنے سے گزرنے پر صرف اشارے سے روکا اور نماز مکمل کی، یا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے واقعے میں گدھے اور بچیوں کے گزرنے پر بھی آپ ﷺ نے نماز جاری رکھی۔
اسی لیے جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ اگر کوئی عورت یا کوئی اور چیز سامنے سے گزر جائے، تو یہ ایک ناپسندیدہ عمل (مکروہ) تو ہے، لیکن اس سے نماز ٹوٹتی نہیں ہے۔ امام ترمذیؒ کے مطابق بھی زیادہ تر اہل علم اسی بات پر عمل کرتے ہیں کہ یہ عمل مکروہ تو ہے پر نماز باطل نہیں ہوتی۔
یاد رہے اگر نمازی کے سامنے ‘سترہ’ یعنی کوئی آڑ موجود ہو، تو پھر اس کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

سائل: شیخ نماز لوٹائی جائے گئی کیا؟
جبکہ عورت کے گزرنے پر جو علماء کرام نے تشریح کی ہے وہ یہ ہی ہے کہ خشوع وخضوع میں صرف خلل پڑے گا نماز درست ہے؟
جواب: حدیث کے الفاظ ہیں وہ نماز لوٹائی جائے گی۔
جناب عبداللہ بن صامت رحمه الله سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گدھے، عورت اور سیاہ کُتّے (کے نمازی کے آگے) سے گزرنے کی وجہ سے نماز لوٹائی جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ سیاہ کُتّے کا زرد یا سرخ کُتّے سے فرق ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”سیاہ کُتّا شیطان ہے۔“
(صحيح ابن خزيمه حدیث نمبر : 831)

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

اس بارے میں سلف صالحین وفقہاء عظام کے درمیان اختلاف ہے
ایک جماعت نماز کے فاسد وباطل ہونے کا موقف رکھتی ہے اور ایک جماعت نماز کے باطل نہ ہونے کا موقف رکھتی ہے اور ان کی مراد حدیث کے ظاہری الفاظ سے باطل ہونا نہیں بلکہ نماز کے خشوع وخضوع میں کمی اور یقطع سے مراد خشوع و توجہ میں انقطاع واقع ہونا ہے۔
اور یہ دوسرا موقف اختیار کرنا ہی راجح معلوم ہوتا ہے اور اسے ہی جمہور علماء امت نے اختیار کیا ہے۔
ہمیں جان لینا چاہیے ہے کہ قرآن وحدیث کے ظاہری الفاظ کی وہی مراد وتفسیر بہتر ہے جسے سلف صالحین کی جماعت نے اختیار کیا ہے ۔
امام بخاری نے صحیح البخاری میں یوں باب باندھا ہے
ﺑﺎﺏ ﻣﻦ ﻗﺎﻝ: ﻻ ﻳﻘﻄﻊ اﻟﺼﻼﺓ ﺷﻲء
پھر اس کے تحت وہ روایت لائے ہیں جس میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے لیٹے ہونے اور پھر سامنے سے کھسک جانے کا ذکر ہے
دیکھیے صحیح البخاری :(514 ،515)
پھر ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا نے اس روایت کی مزید تخصیص وتفسیر کر دی جس میں عورت،گدھے اور کتے کا ذکر ہے
آپ رضی الله عنہا فرماتی ہیں
ﻻ ﻳﻘﻄﻊ اﻟﺼﻼﺓ ﺷﻲء ﺇﻻ اﻟﻜﻠﺐ اﻷﺳﻮﺩ
نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی سواے کالے کتے کے
الجعديات/ مسند علی بن الجعد:(164) سنده صحيح ،مصنف ابن أبي شيبة :(2918) صحيح
ایک روایت کے مطابق سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ نے کتے کے بچے کے گزر جانے پر نماز کو دہرایا ( ممکن ہے دوبارہ سے کامل خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھنا مقصود ہو اور اسے وہ اولی خیال کرتے ہوں)
دیکھیے مصنف ابن أبی شیبة :(2935) صحیح
جبکہ سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ سے ہی یہ موقف بھی مروی ہے
لا يقطع الصلاة شيء
کہ نماز کو کوئی چیز نہیں کاٹتی
مصنف ابن أبي شيبة (2914) سنده صحيح
یعنی سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ کسی بھی چیز کے ساتھ نماز باطل و فاسد ہونے کا موقف نہیں رکھتے سوائے کتے یا اس کے بچے کے۔
ایک روایت کے مطابق سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ سے کہا گیا: إن عبد اللَّه بن عياش بن أبي ربيعة يقول: يقطع الصلاة الحمار والكلب،
کہ کتا اور گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے
تو سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ نے فرمایا: لا يقطع صلاة المسلم شيء
کہ مسلمان کی نماز کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی
مصنف ابن أبي شيبة :(2913) صحيح ،سنن دارقطنی :(1384) صحیح
معلوم ابن عمر رضی الله عنہ کا یہی موقف راجح ہے یا انہوں نے نماز لوٹانے کو بہتر و اولی خیال کیا یا وہ عمل پہلے کا ہے اور یہ نماز نہ ٹوٹنے والا موقف بعد کا ہے ۔
عن ابن المسيب عن علي وعثمان قالا: لا يقطع الصلاة شيء
امام سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضی رضی اور سیدنا عثمان ذوالنورین رضی الله عنھما نے فرمایا: نماز کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی
مصنف ابن أبي شيبة :(2912) صحیح
یعنی ان دونوں بڑے صحابہ کے نزدیک نمازی کے آگے سے عورت ،گدھے وغیرہ کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
ثقہ ،فقیہ تابعی امام سعید بن مسیب نے فرمایا:
لا يقطع الصلاة إلا الحدث
حدث ( ہوا کے اخراج یا حیض وغیرہ کا معاملہ بننے ) کے علاوہ کسی چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی
مصنف ابن أبي شيبة :(2916) صحیح
امام عروہ بن زبیر رحمة الله عليه کے نزدیک نماز کسی چیز سے نہیں ٹوٹتی سواے کفریہ عمل کے کرنے سے
مصنف ابن أبي شيبة:(2919) صحیح
جلیل القدر تابعی نے کلمہ کفر بول کر بتا دیا کہ نمازی کے سامنے سے عورت،گدھے کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی کیونکہ اس میں کوئی ایسی علت وخرابی موجود نہیں کہ سرے سے نماز باطل ہو جائے جب تک کوئی کفر و حدث پر مبنی عمل سرزد نہیں ہو۔
ثقہ تابعی امام عامر الشعبی نے فرمایا:
لا يقطع الصلاة شيء
کسی چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی
مصنف ابن أبي شيبة :(2923) صحیح
حدیث میں کتے سے مراد کالا کتا ہے کیونکہ اس میں زیادہ خباثت وشرارت ہوتی ہے ۔
امام ترمذی نے حدیث ابن عباس رضی الله عنہ نقل کرنے کے بعد کہا:
ﻭﺣﺪﻳﺚ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﻴﺢ.
ﻭاﻟﻌﻤﻞ ﻋﻠﻴﻪ ﻋﻨﺪ ﺃﻛﺜﺮ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻭﻣﻦ ﺑﻌﺪﻫﻢ ﻣﻦ اﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻻ ﻳﻘﻄﻊ اﻟﺼﻼﺓ ﺷﻲء.
ﻭﺑﻪ ﻳﻘﻮﻝ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻭاﻟﺸﺎﻓﻌﻲ
یعنی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اکثر صحابہ اور تابعین کا یہی عمل و موقف ہے کہ کسی چیز سے نماز نہیں ٹوٹتی ہے اور یہی بات امام سفیان اور امام شافعی کہتے تھے۔
سنن ترمذی :(337)
ان روایات وآثار کو جن میں عورت ،گدھے اور کتے کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر نماز کے ٹوٹنے کا ذکر ہے اس بات پر محمول کریں گے کہ اس سے مراد نمازی کے خشوع وخضوع کا ٹوٹنا ہے جس سبب نمازی کے اجر وثواب میں کمی واقع ہوتی ہے جو ان روایات سے سرے سے نماز کے باطل ہونے کا موقف رکھتے ہیں ان کا موقف درست و راجح معلوم نہیں ہوتا ہے۔
اس موقف کو ہی جمہور علماء ائمہ محدثین و سلف صالحین نے اختیار کیا ہے اور یہی اقرب الی الحق ہے کہ نمازی کے ساتھ سترہ نہیں ہو تو عورت وغیرہ گزر جائیں تو نماز باطل نہیں ہو گی صرف خشوع وخضوع میں کمی کے باعث اجر وثواب میں کمی واقع ہو گی۔
یہ میں نے اپنے مطالعہ وتحقیق کے مطابق خلاصہ بیان کر دیا ہے اس مسئلہ پر تفصیل کے لئے تو ایک ضخیم مقالہ کی ضرورت ہے جس میں مکمل دراسہ و تبصرہ وتوضیح پیش کی جائے
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم أبو انس طیبی حفظہ اللہ