سوال 7659
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اگر بندہ سفر میں ہو ایک جگہ رکے نماز پڑھنے کیلئے لیکن وہاں جماعت کھڑی ہو لیکن کو بریلوی جس کی نماز ہی سنت کے مطابق نہیں تو کیا بندہ پیچھے اپنی نماز قصر کرسکتا ہے۔ کیونکہ بدعتی کے پیچھے نماز نہیں ہوتی علماء کرام کہتے ہیں؟
رہنمائی فرما دیں
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بریلوی تو شرک بھی کرتے ہیں۔
باقی نماز میں خشوع وخضوع ہی نہیں تو کیا نماز ہوئی ؟
اطمینان نہیں تو ارکان مکمل نہیں۔
ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ رک جانا چاہیے اور اپنی جماعت یا الگ اپنی پڑھیں۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم اکرام اللہ واحدی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو علمائے کرام فرماتے ہیں کہ بدعتی کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، انہیں سے رہنمائی لے لیں کہ وہ ایسی صورت حال میں کیا رہنمائی کرتے ہیں.
ہمارے نزدیک عمومی حالات میں سنت کے مطابق نماز ادا کرنا، صحیح العقیدہ اور متبع سنت امام کی اقتداء کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن سفر کے اندر یا اس طرح کے دیگر حالات کے اندر جہاں نماز کا وقت ہو، جو بھی مسجد ہو اور جو بھی امام ہو، اس کے پیچھے نماز ادا کی جائے۔
اکابرین اہل حدیث دیگر مسالک کے اہل علم کے ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں، اور اکثریت ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں ادا کر لیا کرتے تھے!
دوسرے مسلک والے کے پیچھے نماز نہیں ہوتی یہ علمی مسئلے کی بجائے فرقہ وارایت اور تعصب و جمود کا شاخسانہ زیادہ ہے، جس میں یہ سوچ راسخ ہو جائے، وہ حرمین شریفین جیسے مقدس مقامات میں بھی جا کر وہاں کے ائمہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اور حیلوں بہانوں سے واش رومز وغیرہ میں نماز باجماعت ضائع کر دیتا ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: تو کیا شیخ محترم جو بندہ رفع الیدین نہیں کر رہا ہاتھ ناف کے نیچے باندھ رہا سر عام حدیث کی مخالفت کررہا تو کیا یہ علم میں ہونے کے باوجود بھی نماز اس کے پیچھے جماعت کے ساتھ پڑھ لینی چاہیے؟
جواب: جی پڑھ لینی چاہیے!
کسی کی غلطی کو اپنی غلطی کے لیے جواز نہ بنائیں!
نماز با جماعت ترک کرنا درست نہیں!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: سفر کے علاؤہ بھی شیخ محترم
جیسے جہاں ہم کام کرتے وہاں دیوبند مسجد ہے تو انکا ٹائم بھی عصر کا 5 کے قریب ہے۔
تو اسی لئے اکیلے 4 بجے پڑھ لیتے۔۔۔
تو کیا یہ درست ہے یہاں بھی حدیث کی مخالفت عصر کی نماز کا ٹائم جلد ہے؟
جواب: ایسی صورت حال میں تین آپشنز ہیں:
1۔ وہاں کے منتظمین کو توجہ دلائی جائے کہ عصر کی نماز کا وقت زیادہ لیٹ نہ کریں، جس قدر امکان ہے، اس کو پہلے کر لیں، تاکہ دیگر مسالک کی رعایت ہو جائے۔
2۔ اگر اہل حدیث حضرات دو چار کی تعداد میں ہیں تو وہ مل کر انتظامیہ سے کہیں کہ ہمیں نماز پہلے پڑھنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اپںی جماعت کروا لیا کریں۔
3۔ اگر پہلی دونوں صورتیں ممکن نہیں تو پھر ان کے ساتھ 5 بجے ہی نماز ادا کریں، کیونکہ یہ آپ کی جانب سے عمدا تاخیر نہیں ہے۔
4۔ جو آپ کرتے ہیں، اس سے بھی نماز ہو جاتی ہے، لیکن یہ سب سے آخری آپشن ہونا چاہیے۔
واللہ اعلم
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: “جو بھی مسجد اور جو بھی امام” میں اہل تشیع اور مشرک بھی شامل ہیں؟
جواب: اس سے مراد تمام اہل اسلام ہیں.
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
سائل: یعنی اہل تشیع اور بریلوی مشرک بھی شامل ہیں!
شیخ! ہمارے اسلاف اہلِ بدعت کے معاملے میں بہت سخت رویہ اختیار کرتے تھے!
اللہ کے نبی ﷺ نے ایک شخص کو صرف اس وجہ سے امامت سے ہٹا دیا کہ اس نے قبلہ رُخ تھوک دیا تھا۔
تو کیا یہ زیادتی نہیں کہ آج “فرقہ واریت” کا عنوان دے کر، اسی کی آڑ میں ہر ایک کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی جائے، خواہ اس کے عقائد اور منہج میں کتنی ہی واضح خرابیاں کیوں نہ ہوں؟
سلف کے چند اقوال کی نوعیت اہل بدعت کے بارے میں:
لَأَنْ أَرَاكَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ زَانِيَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَرَاكَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ فُلَانٍ
َأَنْ أَرَاكَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ خَنَثَى أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَرَاكَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِ فُلَانٍ
َأَنْ يَلْقَى اللهَ العَبْدُ بِكُلِّ ذَنْبٍ مَا خَلَا الشِّرْكَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَلْقَاهُ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِ الْكَلَامِ
ُكْمِي فِي أَهْلِ الْكَلَامِ أَنْ يُضْرَبُوا بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ، وَيُطَافَ بِهِمْ فِي الْعَشَائِرِ وَالْقَبَائِلِ
جواب: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منتظم و حاکم تھے، جس کو مرضی ہٹا سکتے ہیں… آج بھی کسی بھی شخص کو اس کی اہلیت و نا اہلیت کی بنیاد پر امام پر مقرر یا ہٹایا جا سکتا ہے… یہ مسئلہ بالکل الگ ہے.
آپ کوئی ایسی مثال دیں کہ اللہ کے رسول نے کسی کو امام مقرر کر دیا ہو، یا صحابہ کے زمانے میں کوئی امام مقرر ہو اور پھر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی جاتی ہو.
صحابہ کرام ان لوگوں کے پیچھے بھی نماز پڑھتے رہے ہیں جنہوں نے مدینہ و مسجد نبوی کی حرمت کو پامال کیا تھا!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
بارك الله فيكم وعافاكم
حافظ صاحب یہ مثل عام نہیں تھی۔
کبھی کبھار اہل بدعت کے ہاں اتفاقا نماز پڑھنی پڑ جائے تو الگ بات ہے مگر مستقل طور پر ان کی امامت میں نماز پڑھنا درست عمل نہیں ہے۔
عہد نبویہ،عہد صحابہ کرام میں آج کے اہل بدعت کی طرح مستقل ائمہ مقرر ہی نہیں تھے۔
یا تھے تو ان کے پیچھے سلف صالحین نے باقاعدہ نماز پڑھیں یا ترغیب دی ہو۔ مثال۔۔۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
شیخ محترم! میں نے بھی یہی عرض کیا کہ سنت کے مطابق نماز پڑھنے والے صحیح العقیدہ امام کا ہی اہتمام کرنا چاہیے.. لیکن اگر میسر نہ ہو تو کسی دوسرے مسلمان امام کے پیچھے نماز پڑھنا بھی درست ہے۔
ہمارے ہاں یہ رویہ ہے کہ یا تو اہل حدیث کے پیچھے نماز ورنہ بغیر جماعت کے اپنی انفرادی نماز، سائل کا سوال بھی یہی تھا.
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
بارك الله فيكم
جی یہاں پر آ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ جس کا دل مطمئن ہے وہ پڑھ لے باقی ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔
ابن عمر رضی الله عنہ تو تثویب جیسے عمل پر مسجد سے باہر نکل آئے تھے ۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




