سوال 7089
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بیوی بچے کو دودھ پلا رہی ہے ایسے حالات میں خاوند بیوی کے ساتھ رومانس کرتے ہوئے بیوی کا دودھ پیتا ہے
تو اِس حوالے سے شرعی راہنمائی کیا ہے؟ بارک اللہ فیکم
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس مسئلے کو ہم دو طرح سے دیکھ سکتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا میاں بیوی کے لیے اس طرح کا تعلق یا کیا اس طرح تمتع کرنا جائز ہے؟ تو شرعی لحاظ سے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، میاں بیوی کے لیے یہ بالکل جائز ہے۔ شریعت میں جس طریقے سے منع کیا گیا ہے وہ ہے: “الاتیان فی ادبار النساء” اس کے علاوہ “فاتو حرثکم انی شئتم ” کے تحت جو بھی صورت ہو وہ جائز ہے۔
دوسری بات جو اکثر پوچھی جاتی ہے وہ یہ کہ کہیں اس سے ’رضاعت‘ (دودھ کا رشتہ) تو ثابت نہیں ہو جاتی؟ تو اس بارے میں واضح رہے کہ اس طرح کے تعلق سے رضاعت ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے شریعت نے ایک خاص عمر (بچپن) اور طریقہ کار مقرر کیا ہے؛ بڑی عمر میں اس طرح رضاعت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس لیے میاں بیوی کے اس تعلق پر رضاعت کا حکم کسی صورت لاگو نہیں ہوتا۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




