سوال 7172

اگر کسی شخص کی اپنے دوست کے ساتھ بہت گہری دوستی ہو، اتنی محبت اور لگاؤ ہو جائے کہ وہ دوستی محبت جیسے جذبات میں بدل جائے، لیکن اس میں کوئی غلط نیت یا ناجائز پہلو نہ ہو، تو کیا وہ اپنے دوست سے محبت کے اظہار کے طور پر “I love you” جیسے الفاظ کہہ سکتا ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عربی میں کہہ سکتا ہے ‘اِنِّی اُحِبُّکَ’۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔

‘فَلْيُعْلِم مَنْ اَحَبَّ اَخَاہُ فَلْيُعْلِمْهُ’۔

حدیث میں آتا ہے جس سے محبت کرتے ہو اپنے بھائی کو بتا دو مجھے اللہ کے لیے آپ سے محبت ہے۔ تو اگر وہ انگلش میں کہہ دیتا ہے تو کیا ہو گیا پھر اس میں کیا پریشانی ہے؟

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محبت کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ اس سے تعلقات میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لیے محدود و مناسب الفاظ ہی استعمال کرنے چاہیے جو ایک صاحب ایمان کے شایان شان ہوں۔ مذکورہ صورت میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یہ عمومی غیرشرعی محبت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اگرچہ معنی غلط نہیں۔ جو چیز، جو الفاظ دین بیزار لوگوں کا شیوہ بن جائیں۔ ایسے الفاظ کا معنی درست ہونے کے باوجود استعمال صحیح نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابوزرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ