سوال 7170
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ
یکم ذی الحجہ سے تکبیرات پڑھنی ہوتی ہیں؟ کب تک پڑھنی ہوتی ہیں یہ بھی بتا دیں۔ نماز کے بعد بھی تکبیرات یکم ذی الحجہ سے ہی پڑھیں گے یا عید کے تین دنوں میں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرب اہلِ علم نے تکبیرات کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے: تکبیراتِ عامہ اور تکبیراتِ خاصہ، ان کے مطابق:
تکبیراتِ عامہ وہ ہیں جو یکم ذوالحجہ سے لے کر 13 ذو الحجہ کی مغرب تک جاری رہتی ہیں۔ ان میں انسان جب بھی موقع ملے، ذکر و تکبیر کرتا رہے۔
اور تکبیراتِ خاصہ وہ ہیں، جن کا اہتمام خاص طور پر 9 ذوالحجہ (یومِ عرفہ) سے نمازوں کے بعد شروع کیا جاتا ہے، اور یہ ترتیب 13 ذو الحجہ تک جاری رہتی ہے، یعنی نمازوں کے ساتھ خاص طور پر ان کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ہمارے نزدیک بہتر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ عموم ہی کو اختیار کیا جائے، یعنی جب، جہاں اور جس موقع پر ممکن ہو 13 تاریخ تک تکبیرات جاری رکھی جائیں، تاکہ عمل میں وسعت اور سہولت باقی رہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کیا امام نماز کے بعد اسپیکر مائیک وغیرہ میں ترغیب اور یاد دہانی کیلئے تکبیرات پڑھ سکتا ہے؟
جواب: دیکھیں یاد دہانی کسی بھی مناسب طریقے سے کروائی جا سکتی ہے، چاہے بغیر اسپیکر کے ہو یا اسپیکر کے ساتھ۔ اصل مقصد صرف تعلیم اور یاد دہانی ہوتا ہے۔
لیکن اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی ایسی صورت نہ بنے جس سے بعد میں بحث یا الجھن پیدا ہو جائے، یعنی لوگوں کو یہ تلاش نہ کرنا پڑے کہ یہ عمل کہاں سے ثابت ہے یا اس کی اصل کیا ہے۔ ہمارے ہاں بعض اوقات جلدی میں لوگ شور و اعتراض شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ نیت صرف تعلیم دینا ہوتی ہے۔
اسی لیے بہتر ہے کہ بات سادہ اور واضح رکھی جائے۔ اگر ہم عید کے دن بھی یہ کہتے ہیں کہ تکبیرات پڑھتے رہیں تو یہی کافی ہے۔
البتہ اس بات سے بچنا چاہیے کہ کوئی ایسی اجتماعی کیفیت بن جائے جس میں سب کو ساتھ ساتھ باقاعدہ ایک انداز میں پڑھنے پر مجبور کیا جائے یا ایسا تاثر پیدا ہو کہ یہ کوئی لازمی اجتماعی ذکر ہے۔ مقصد صرف یاد دہانی اور ترغیب رہے، نہ کہ کوئی خاص اجتماعی شکل۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




