سوال 7143
رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص (کمر کے بل چت لیٹے) تو اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر نہ رکھے
[السلسلة حديث نمبر: ۲۲۴]
السلام علیکم محترم علمائے کرام کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی وضاحت بھی فرما دیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
چت لیٹنے اور ایک پاؤں دوسرے پر رکھنے کے حوالے سے دو صورتیں ہیں، جنہیں سمجھ لینا بہتر ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ انسان سیدھا لیٹا ہو اور پاؤں پھیلے ہوئے ہوں، اس حالت میں اگر ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے ستر نہیں کھلتا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ انسان ایک ٹانگ کو گھٹنے سے کھڑا کر لے اور دوسری ٹانگ اس کے اوپر رکھ لے۔ عام طور پر لوگ آرام، تھکن اتارنے یا لاپرواہی میں ایسا کر لیتے ہیں، لیکن شرعی طور پر اس سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بندے نے تہبند یا چادر باندھی ہو تو سامنے سے دیکھنے والے کو ستر نظر آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اگرچہ آج کل لباس مختلف طرح کے ہیں، لیکن چونکہ اس کیفیت سے منع کیا گیا ہے، اس لیے اسی پر عمل کرنا چاہیے اور اس طرح پاؤں اٹھا کر لیٹنے سے بچنا چاہیے۔ خلاصہ یہ کہ ایک طریقہ درست ہے جبکہ دوسرے سے اجتناب ضروری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




