سوال 7101
دجال مکہ مدینہ میں نہیں جا سکتا اور خواب میں آپ صلی اللہ علیہ نے دجال کو طواف کرتے ہوئے دیکھا؟ دجال سے عیسی علیہ السلام لڑے گے بھی اور دوسری حدیث میں دجال عیسی علیہ السلام کو دیکھ کر پگل جائے گا؟ باہمی تعارض دکھ رہا ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
درحقیقت بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دجال کو (حقیقت میں) طواف کرتے نہیں دیکھا تھا، بلکہ ہوا یوں کہ طواف کے دوران آپ ﷺ کی نظر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پڑی، اور جب آپ ﷺ مڑے تو وہاں ایک گھنگریالے بالوں والا شخص نظر آیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ دجال ہے۔
آپ اسے یوں سمجھیں کہ یہ دجال کی ایک تصویر یا جھلک تھی جو ‘عالمِ مثال’ میں دکھائی گئی۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج کل اسکرین کا دور ہے؛ واقعہ کہیں اور ہو رہا ہوتا ہے لیکن ہمیں اپنی اسکرین پر کہیں اور نظر آ رہا ہوتا ہے۔
اگر بالفرض اسے خواب میں طواف کرتے دیکھنا مان بھی لیا جائے، تب بھی اس کا جواب یہ ہے کہ مکے اور مدینے میں اس کا داخلہ اس وقت بند ہوگا جب وہ فتنہ پھیلانے کے لیے نکلے گا۔ ابھی وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے۔ جب وہ فتنے کی غرض سے نکلے گا، تب وہ چاہ کر بھی مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
باقی رہا دوسرا مسئلہ جی ہاں دونوں صورتیں حدیث میں موجود ہے کہ وہ انہیں دیکھتے ہی پگھل جائے گا لیکن وہ ختم نہیں ہوگا۔ الا یہ کہ وہ خود اس کو اس طرح ختم کرنا چاہیں۔ پھر باقاعدہ جنگ ہو گی۔ پھر باقاعدہ جنگ ہوگی اور وہ مارا جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




