سوال 7167

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں واقعہ ملتا ہے صحیح البخاری میں کہ جب وہ ملنے کے لیے آتے ہیں تو اسماعیل علیہ السلام گھر میں نہیں ہوتے تو وہ جب ان کو جاتے ہوئے پیغام دے جاتے ہیں کہ ان کو میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ گھر کی دہلیز بدل لو تو کیا اگر باپ اپنے بیٹے سے یہ کہے کہ اپنے گھر کی دہلیز بدل لو مراد اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا اس کے اوپر لازم ہو جائے گا کہ باپ کی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بیوی کو چھوڑ دے دوسری بات کہ باپ کی غیر موجودگی میں بیٹے کا نکاح ہو جائے گا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
لڑکا خود اپنا ولی ہوتا ہے، اس لیے باپ کی غیر موجودگی میں بھی اس کا نکاح ہو جاتا ہے۔
البتہ اگر ماں باپ اور بہو کے درمیان اختلاف ہو جائے اور والدین بیٹے سے کہیں کہ طلاق دے دو، تو پہلے افہام و تفہیم، صلح اور مسئلے کو سمجھداری سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر معاملہ بہت بڑھ جائے، تو عمومی طور پر والدین کے حق اور احترام کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، اور بیٹے کو ضد کے بجائے نرمی اور جھکاؤ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
جہاں تک سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے واقعے کا تعلق ہے، کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے “گھر کی دہلیز بدلنے” کا اشارہ فرمایا، اور اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کا واقعہ بھی آتا ہے، تو ان دونوں سے یہ بات کشید کی جاتی ہے کہ بعض حالات میں باپ کے حکم پر طلاق دینا پیش آیا اور اہلِ علم نے اس پر گفتگو کی ہے۔
لیکن ایک پہلو یہ بھی قابلِ غور ہے کہ آج نہ ہر باپ عمل و تقویٰ میں ابراہیم علیہ السلام جیسا ہے، نہ عمرؓ جیسا زہد و بصیرت رکھتا ہے، پھر وہ اپنے بچوں سے اسماعیلؑ اور عبداللہ بن عمرؓ جیسا مطالبہ کیوں کرے؟
اگر کوئی والد یہ دعویٰ کرے کہ: میں تقویٰ و حکمت میں ابراہیم علیہ السلام جیسا ہوں یا میں عمرؓ جیسی بصیرت رکھتا ہوں تو پھر بات الگ ہے۔ لیکن جب معاملہ ایسا نہیں، تو بیٹے سے اس نوعیت کے سخت مطالبات میں بھی حکمت اور توازن ضروری ہے۔
لہذا دونوں طرف سمجھانے، توازن قائم کرنے اور افراط و تفریط سے بچنے کی ضرورت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ