سوال 7035
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ ایک سوال تھا فال اور قرعہ میں کیا فرق ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! دیکھیں، کسی بھی جائز مقصد کے لیے قرعہ اندازی کرنا بالکل درست ہے۔ قرآن پاک میں ذکر ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے معاملے میں بھی قرعہ اندازی ہوئی تھی، اور خود نبی کریم ﷺ بھی سفر پر روانہ ہوتے وقت اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرمایا کرتے تھے کہ کون ساتھ جائے گا۔ تو ثابت ہوا کہ جائز کاموں کے لیے یہ طریقہ اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔
دوسری بات ‘فال’ کے بارے میں ہے۔ اسلام میں جس فال کا ذکر ہے، اس کا مطلب ہے “الکلم الطیب” یعنی کسی کے بارے میں اچھی بات کرنا یا اچھی امید رکھنا۔ وہ جو طوطے کے ذریعے فال نکالی جاتی ہے، وہ تو سراسر غلط اور حرام ہے۔ صحیح فال یہ ہے کہ ہم کسی کو اچھے لفظوں سے پکاریں۔ جیسے کسی بیمار کو دیکھ کر کہیں “اے تندرست انسان!” (یعنی اسے دعا دیں)، یا کوئی کام پر جا رہا ہو تو اسے کہیں “اے کامیاب ہونے والے!” تاکہ اس کا حوصلہ بڑھے۔
نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ انہیں ‘نیک فال’ بہت پسند تھی۔ بس یہی وہ نیک فال ہے جو پسندیدہ ہے، باقی ہاتھ دیکھنا یا طوطوں سے قسمت معلوم کرنا محض وہم اور باطل باتیں ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




