سوال 7096

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال تھا کہ فہم سلف صالحین اور فہم صحابہ سے کیا مراد ہے اور کیا ان کا فہم لینا درست ہے تفصیل سے وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سلف صالحین سے مراد وہ نیک بزرگ ہیں جو ہم سے پہلے گزر چکے۔ خود نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا تھا کہ ’’میں تمہارا بہترین سلف (پیش رو) ہوں‘‘۔ تو ہمارے سلف میں صحابہ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین کی بڑی جماعت (جمہور) شامل ہے، اور وہ تمام لوگ بھی جو ان کے نقشِ قدم پر چلے۔ دین کو سمجھنے کے لیے اس پوری جماعت کے متفقہ فہم کو بنیاد بنانا بہت ضروری ہے۔
آج کل غامدیت ہو یا اس طرح کے دوسرے نظریات، ان کی بنیادی غلطی اور ان کے منہج کی خامی یہی ہے کہ وہ سلف کے فہم کو نظر انداز کر کے براہِ راست چیزوں کو اپنے ڈھب پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ بظاہر لگ رہا ہوتا ہے کہ کوئی حرج نہیں، لیکن اصل خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب وہ قرآنی آیات سے ایسے خود ساختہ نتائج نکالتے ہیں جو پہلے کبھی نہیں لیے گئے۔
یہی آیات صحابہ، تابعین اور ائمہ کے سامنے بھی تھیں، لیکن انہوں نے تو ایسی کوئی بات نہیں نکالی۔ یہی حال اہل بدعت کا ہے کہ وہ بھی انہیں آیات سے، جو صحابہ نے براہِ راست نبی ﷺ سے سیکھی تھیں، گیارہویں، بارہویں اور میلاد جیسی چیزیں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ صحابہ نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔
فہمِ سلف کا اصل مقصد یہی ہے کہ قرآن و سنت کی ایسی تشریح نہ کی جائے جو جمہور کے بالکل خلاف ہو اور جس سے کوئی بالکل نئی اور الگ راہ نکلتی ہو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گمراہی اور جہنم کی دو بڑی وجہ بتائی ہیں: ایک نبی ﷺ کی ہدایت (سنت) کو چھوڑنا اور دوسرا مومنین (صحابہ و صالحین) کے راستے سے ہٹ جانا۔ ان بزرگوں کے راستے کو چھوڑنا ہی اصل گمراہی ہے۔
البتہ یہ بات ہم سب کے لیے واضح ہونی چاہیے کہ دین کو سمجھنے اور اس کی تشریح کرنے کے لیے فہمِ سلف ہی بہترین راستہ ہے، لیکن اسے بالکل آخری حرف سمجھ کر دین کا واحد ماخذ بنا لینا کہ بس اس سے آگے کچھ ہے ہی نہیں، یہ بات ذرا سوچ طلب ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم ان بزرگوں کے فہم کو ساتھ لے کر چلیں، انہی سے دین سیکھیں اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں سے انحراف نہ کریں۔ لیکن اگر کوئی انسان براہِ راست قرآن و سنت سے کچھ ایسی باتیں اخذ کرتا ہے جو سلف کے کام کے خلاف بھی نہیں ہیں، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد ان کی رہنمائی میں دین کو سمجھنا ہے، نہ کہ تحقیق کے دروازے بالکل بند کر دینا۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ