سوال 7033

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کسی بھی فرقے کے درست ہونے کا معیار کیا ہونا چاہیے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اس کی بنیاد اور اس کے اصول، اس کے اصولی قواعد اور بنیاد جو ہے، وہ ہو جو صحابہ کرام کی تھی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا۔

عملی زندگی میں تو سب کے اندر خرابیاں ہوتی ہیں، مگر اصل بنیاد اور اصول کیا ہے؟ اصول یہ ہو کہ قرآن و حدیث سے عقیدہ اور عمل لینا ہے، یہ اصل بنیاد ہے۔ اور جس پر امت کا اتفاق ہو گیا ہو، اس چیز کو لے لینا ہے، یہ اصولی چیز ہے۔ تو اصول درست ہوں، پلر درست ہوں آپ کے، بلڈنگ میں کمی کوتاہی جو ہے وہ گوارا ہو جائے گی، لیکن ستون میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔
اب ظاہر سی بات ہے یہ اسی کو حاصل ہے جس کے عقائد و نظریات صحابہ کرام کے دور تک پہنچتے ہیں۔ جس کا وجود، عقائد و نظریات صحابہ تک پہنچتا ہی نہیں تو ظاہر سی بات ہے وہ پھر محروم ہے۔
وہ لاکھ دعویٰ کرے، لیکن عقائد و نظریات میں تسلسل کا نہ ہونا، انقطاع آ جانا یعنی جب سے دین نازل ہوا ہے لے کر آج تک اگر درمیان میں کہیں انقطاع آ گیا کہ “جی اس صدی میں تو یہ چیز ہمیں نہیں ملتی” تو سمجھ جائیں وہ چیز باطل ہو گئی۔
مثلاً آپ میلاد النبیؐ کو لے کر چلیں تو پتہ چلے گا کہ چھٹی صدی میں ایجاد ہوا، اور مزید گہرائی میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ چوتھی صدی میں فاطمیوں نے اسے ایجاد کیا۔ اس سے پہلے نہیں ملتا، تو سمجھ جائیں کہ یہ بعد کی چیز ہے۔
اسی طرح تقلیدِ شخصی ہے، یہ چوتھی صدی کی پیداوار ہے۔ پیچھے جائیں تو اس کا واضح ثبوت نہیں ملتا، تو اس اعتبار سے بھی یہ اصل منہج سے ہٹ کر چیز شمار ہوگی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ