سوال 7131
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم
کیا عورت خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت کسی غیر محرم کو سنا سکتی ہے؟
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
عمومی تلاوت کرنا جائز ہے، اس کو دیگر بھی سن لیں تو حرج نہیں، کیونکہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔
لیکن کسی خاص غیر محرم کو سنانا یہ فلا تخضعن بالقول کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ لہذا درست نہیں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
اصل چیز یہ ہے کہ عورت کی آواز بھی پردہ ہے۔ لہذا عورت کی آواز غیر محرم تک نرم، حلاوت والی، مٹھاس والی، لوچ دار، لچکدار نہیں جانی چاہیے۔ اور ظاہر ہے تلاوت میں یہ سب چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاۃ
دیکھیں، اپنی آواز کو خوبصورت بنانا اور قرآن پاک کو خوش الحانی سے پڑھنا ایک پسندیدہ عمل ہے، لیکن اسے جان بوجھ کر غیر محرم کو سنانا فتنے کا باعث ہے۔ قرآن پاک میں بھی ہمیں یہی سمجھایا گیا ہے کہ “فلا تخضعن بالقول” بات کرنے میں لچک نہ پیدا کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے، اور ہمیشہ سیدھی اور صاف بات کرو۔
اسی لیے غیر محرم سے بات کرتے ہوئے ایک خاص دائرے میں رہنا ضروری ہے، یہاں تک کہ دینی بات بھی سپاٹ لہجے میں کرنی چاہیے۔ اب رہا قرآن، تو وہ بھی دین کا حصہ ہے، اس لیے تلاوت میں اپنا مخصوص لہجہ غیر محرم کے سامنے لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں اگر لاعلمی میں آواز کہیں پہنچ جائے تو وہ الگ بات ہے، لیکن جان بوجھ کر اس طرح آواز سنانے کا اہتمام کرنا جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




