سوال 7607

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک خاتون جو پہلے غیر مسلم تھیں اور الحمدللہ اب مسلمان ہو چکی ہیں، ان کے پاس ایک پالتو کتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کتا گھر سے باہر مخصوص جگہ پر رفعِ حاجت کرتا ہے اور وہ نماز کے کپڑوں اور پاکیزگی کا خاص خیال رکھتی ہیں۔
ان کا سوال ہے کہ اگر کتا رات کے وقت گھر یا بیڈروم میں آ تا ہے تو گھر میں کتا رکھنا کیسا ہے اپنے بیڈ روم میں لانا یا گھر میں رکھنا
دوسرا سوال یہ ہے کہ واللہ اعلم وہ قرآن کا پورا علم رکھتے ہیں رکھتیں ہیں یا کچھ حصے کا ان کا یہ سوال ہے کہ اصحابِ کہف کے ساتھ قرآن میں جس کتے کا ذکر ہے، اس کی کیا حکمت ہے؟ اگر گھر میں کتا رکھنا درست نہیں تو اس واقعے کو کیسے سمجھا جائے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں حکمت اور نرمی سے وضاحت فرما دیں تاکہ ایک نو مسلم کے لیے بات سمجھنا آسان ہو..
جزاکم اللہ خیراً کثیراً

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمدللہ، یہ بہت اچھی بات ہے کہ وہ خاتون ایمان لے آئی ہیں اور اپنی پاکیزگی اور نماز کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور عمل کو قبول فرمائے اور ان کے لیے دین پر ثابت قدمی آسان کرے۔
اسلام میں گھر کے اندر کتا رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اور ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا (جاندار کی) تصاویر ہوں۔ ضروریات کے تحت کتا پالنے کی اجازت ہے، جیسے شکار، مویشیوں یا کھیتوں کی حفاظت کے لیے، لیکن اس کے بغیر گھر میں کتا رکھنے سے اجر و ثواب میں کمی آتی ہے۔
گھر میں کتا رکھنے کے حوالے سے متعدد احادیث موجود ہیں جو اس کی ممانعت کو بیان کرتی ہیں، خلاصہ یہ ہے:
1. گھر میں کتا رکھنے سے رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، اور اس کی وجہ سے انسان کے اجر و ثواب میں روزانہ ایک یا دو قیراط کی کمی ہوتی ہے۔
2. کتا پالنے کی اجازت صرف ضرورت کے تحت ہے، جیسے شکار کے لیے، مویشیوں (بکریوں) کی حفاظت کے لیے، یا کھیتوں کی حفاظت کے لیے۔ ان مقاصد کے بغیر کتا پالنا درست نہیں ہے۔
3. اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے، اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے صاف کرنے کا، جس سے اس کی نجاست اور پاکیزگی کے حوالے سے احتیاط کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
لہذا، اگرچہ اس خاتون نے پاکیزگی کا خاص خیال رکھا ہے اور کتا باہر رفع حاجت کرتا ہے، اس کے باوجود گھر کے اندر، خاص طور پر بیڈروم میں، کتا رکھنے سے احادیث میں بیان کردہ ممانعت باقی رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے اور اجر میں کمی ہوتی ہے۔ اسلام ایک جامع دین ہے جو ہر چیز کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور اس میں مومن کے لیے روحانی فائدے اور اجر کا حصول بہت اہمیت رکھتا ہے۔
قرآن مجید میں اصحابِ کہف کے کتے کا ذکر سورۃ الکہف میں ایک ایسے جانور کے طور پر آیا ہے جو ان نیک لوگوں کے ساتھ تھا۔ تاہم، یہ قصہ گھر میں کتا پالنے کے عمومی شرعی حکم کی دلیل نہیں بنتا، کیونکہ اس کتے کا کردار ایک چوکیدار یا حفاظتی جانور کا تھا جو غار کے باہر پہرہ دے رہا تھا، نہ کہ گھر کے اندر پالتو جانور کے طور پر رہ رہا ہو۔
لہذا اس نومسلم خاتون کو نرمی سے یہ سمجھایا جائے کہ اسلام میں گھر کے اندر کتا رکھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے اور اس شخص کے ثواب میں روزانہ کمی ہوتی ہے۔
انہوں نے دینِ حق اسلام کی خاطر اپنا سابقہ دین چھوڑ دیا ہے، تو اسلامی تعلیمات کی خاطر کتے کو ساتھ رکھنے کی عادت کو بھی چھوڑ دیں۔ اللہ رب العالمین آسانیاں کرے اور استقامت عطا فرمائے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم نے کافی و شافی دے دیا ہے اس میں یہ بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم سے قبل کی شرع جو شریعت ہے وہ ہمارے لیے شریعت کا درجہ نہیں رکھتی الا یہ کہ ہماری شریعت اس کی تائید کرے۔ وہ پہلے کی شریعت اور ان کے دین میں بھی اختلاف ہے بعض کا خیال یہ ہے کہ(اصحاب کہف) وہ عیسائیت میں سے تھے ان کے جو اعمال ہیں معاملات ہیں وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہے جب تک کہ ہماری شریعت فیصلہ نہ کرے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ