سوال 7029
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک بندہ اس کے پاس ایک ہی مکان ہے، گھر والوں سے ناراض ہو کر وہ مسجد کو دے دیتا ہے، بعد میں جب ہوش آئی یہ میرے پاس تو صرف یہی مکان تھا، اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا وراثت میں ثلث دے سکتا ہے، اس سے زیادہ تو نہیں مکمل رہنمائی فرمائی۔
جواب
وعلیکم السلام! جی بالکل، کوئی بھی شخص (اپنی جائیداد سے) اپنے وارثوں کو بالکل محروم نہیں کر سکتا۔ بہتر یہی ہے کہ وہ مکان اپنے پاس ہی رکھے اور اس کے صرف ایک تہائی (1/3) حصے کی مسجد کے نام وصیت کر دے، جبکہ باقی دو تہائی حصہ اپنے گھر والوں کے لیے رہنے دے۔
جیسا کہ احادیث سے بھی ہمیں یہی سیکھنے کو ملتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے شخص کے غلام واپس لوٹا دیے تھے، جس نے مرنے سے پہلے انہیں آزاد کر دیا تھا، کیونکہ اس طرح اس کے وارث بالکل محروم ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان غلاموں کو بیچ کر وہ رقم وارثوں میں تقسیم فرما دی تھی۔
اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بھی اپنی وصیت یا ہبہ (Donation) میں تبدیلی کر لیں؛ ایک تہائی حصہ مسجد کو دے دیں اور باقی جائیداد اپنے وارثوں کے لیے چھوڑ دیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




