سوال 7032
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته جمعے کے فضائل میں سنن ابن ماجہ کے الفاظ ہیں جس نے غسل کیا اور کروایا۔ تو کوئی کنوارہ آدمی اس فضیلت (ایک سال کے روزے اور کے تہجد) کے ثواب کو کیسے حاصل کرے گا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
ہر شخص جو ہے وہ غسل کا مکلف ہے، مفہوم بھی یہی ہے۔ تو جس نے غسلِ جمعہ کیا، اس کو ان شاء اللہ یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اللہ رب العالمین کی عطا پر یقین ہونا چاہیے اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان پر یقین ہونا چاہیے۔
اس کو یوں سمجھیں کہ شریعت نے کہا:
وَ اَیْدِیکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ۔
وضو میں دونوں ہاتھ بھی دھونے ہیں اور دونوں پیر ٹخنوں تک دھونے ہیں۔ اب جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے، کیا اس کے لیے الگ سے بحث کریں کہ اس کا کیا بنے گا؟ نہیں، وہ اس کا مکلف ہی نہیں ہے۔
اسی طرح یہاں بھی معاملہ ہے۔ تو جس طرح بیان ہوا ہے، اسی طرح سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کر لیا جائے تو ان شاء اللہ جو فضائل ہیں وہ بھی حاصل ہو جائیں گے، اجر بھی حاصل ہو جائے گا اور برکات بھی حاصل ہو جائیں گی۔ کیونکہ فیصلہ تو کل ہونا ہے کہ کس کو کیا حاصل ہوا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




