سوال 7138
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
اگر کوئی شخص ایک ترجمہ کرنے والی کمپنی میں کام کرتا ہے خود ترجمہ وغیرہ نہیں کرتا بس کمپنی کے روز مرہ کے کاموں کا ذمہ دار ہے. اس کے کاموں میں یہ شامل ہے کہ ڈاکومنٹس ترجمہ ہونے کے بعد کمپنی کو ٹرانسفر کرنے ہیں..
اکثر ایسی کمپنیوں جیسا کہ بنک، انشورنس اور انٹرنیشنل فیشن کی کمپنیاں اور ایسے کام کرنے والی کمپنی جن کے کام جائز نہیں وہ بھی شامل ہوتی ہیں تو ان کے ڈاکومنٹس بھی دیکھنے ہوتے ہیں.. تو کیا اس شخص کی کمائی حرام کے زمرے میں آئے گی؟
وضاحت فرما دیں.
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، یہ صاحب براہِ راست کسی بینک یا سعودی کمپنیوں کے لیے کام نہیں کر رہے، اور نہ ہی ان کا کام صرف ترجمے تک محدود ہے۔ وہاں تو مختلف قسم کی کمپنیز اپنے دستاویزات بھیجتی ہیں اور سب کام مل جل کر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی کمائی پر ناجائز ہونے کا کوئی فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اسے جائز ہی قرار دیا جائے گا۔
رہی بات تقویٰ کی، تو وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ اگر ان کا دل مطمئن نہیں اور وہ اپنے تقویٰ کی بنیاد پر کوئی بہتر ملازمت ڈھونڈ کر اسے چھوڑنا چاہیں، تو ضرور چھوڑ دیں۔ لیکن اس بات کو بلا وجہ بنیاد بنا کر اپنی لگی لگائی روزی کو ٹھوکر نہ ماریں۔ بہتر یہ ہے کہ اللہ سے دعا بھی کریں اور کوشش بھی جاری رکھیں؛ اگر وہ تقویٰ کی خاطر اس سے بہتر جگہ چلے جاتے ہیں تو ان شاء اللہ اس کا اجر بینک میں ملے گا۔ فی الحال ان کی اس آمدنی کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا، اسے شرعی طور پر جائز ہی کہا جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




