سوال 7133

رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کمپنی یا آن لائن ٹریڈنگ میں جو لوگ انویسٹمنٹ کرتے ہیں حلال پروڈکٹ کی کمپنیوں میں۔
1: بعض علماء کرام ایسی کمپنیوں میں انویسٹمنٹ کے متعلق مکمل حرام کا موقف رکھتے ہیں کیونکہ ان کمپنیوں میں بینک سے سود پر قرض کی ریشو موجود ہے خواہ مقدار تھوڑی ہی کیوں نہ ہو اور بعض دفعہ کچھ انویسٹر بھی حرام یا مشکوک کمائی والے ان کمپنیوں میں شریک ہوتے ہیں۔
2: بعض معاصر علماء کرام کراہت کے قائل ہیں اور (purification) کی شکل میں جواز کے قائل ہیں۔
انکا موقف ہے کہ اگر آپ ان کمپنیوں میں انویسٹمنٹ کرتے ہیں تو اپنی آمدنی میں سے کچھ حصے کو فیصد کے حساب سے الگ کر دیا کریں جو سود پر قرض کی مقدار کمپنیوں نے اپنی ویب سائٹ پر لکھی ہوتی ہے اس حساب سے اس طرح آپ کی باقی آمدنی حلال شمار ہوگی۔
یہ مسئلہ کسی ساتھی نے پوچھا ہے اس بارے رہنمائی درکار ہے۔
کیا حلال کی کمائی میں اگر حرام مکس ہو جائے تو اسے حلال سے الگ کرنا ممکن ہے؟
مفصل جواب درکار ہے۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہماری نظر میں یہ طریقہ بالکل غلط ہے، کیونکہ اس میں سود، دھوکا اور غیر یقینی صورتحال جیسے عناصر موجود ہیں، اور بعض اوقات تو یہ جوئے کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے یہ ہر لحاظ سے ناجائز ہے اور اسے حرام ہی مانا جائے گا۔
رہی بات اس طرح کے کسی حیلے کی، تو یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی غلط کام سے کمائی گئی رقم کو محض کسی ظاہری بہانے سے جائز کرنے کی کوشش کرے۔ مثال کے طور پر، جیسے کسی غلط پیشہ سے وابستہ عورت اپنے پیسے گھما پھرا کر میلاد میں لگانے کی کوشش کرے؛ تو یہ محض الفاظ کا ہیر پھیر ہے، حقیقت نہیں بدلتی۔
صرف یہ کہہ دینے سے کہ ناجائز حصہ نکال دیا ہے بات ختم نہیں ہوتی، کیونکہ جب آپ اس پورے معاملے کا حصہ بنتے ہیں تو یاد رکھیں کہ سود لینے والا، دینے والا، اس کا حساب لکھنے والا اور گواہی دینے والا، سب کے سب برابر کے قصوروار ہوتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے کی نزاکت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ