سوال 7134
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ ایک عورت قتل ہو گئی تھی چند برس قبل اس کی قبر نہیں ہے کیونکہ اس کی لاش ہی نہیں ملی کسی کو نہ ہی کسی نے نماز جنازہ ادا کیا اس کا اتنے سال بعد پتہ چلا ہے کہ وہ قتل کردی گئی تھی اس کے نماز جنازہ کے متعلق بتائیں کہ پڑھی جائے گی اب اتنے سالوں بعد؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، جنازہ تو ویسے بھی فرضِ کفایہ ہے، لیکن جب میت ہی سامنے نہ ہو تو پھر جنازہ کس کا پڑھا جائے؟ نہ قبر کا نشان ہے اور نہ ہی مرحومہ کے بارے میں کچھ معلوم ہے۔ بس ایک زندہ انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں جہاں شریعت نے خاموشی اختیار کی ہے، وہاں ہمیں بھی خاموش رہنا چاہیے جب تک کہ قبر کا پتہ نہ چل جائے یا ان کی موت کی کوئی ٹھوس گواہی سامنے نہ آجائے۔ تب تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ چلیں، ہم جا کر جنازہ پڑھ لیں۔
اب صرف ایک خبر اڑتی ہوئی آئی ہے کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے، لیکن اس بات میں کتنی سچائی ہے، یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔ تو جب تک کوئی سراغ نہ ملے، بغیر میت اور بغیر قبر کے جنازہ کیسا؟ اور پھر ایک ہی علاقے میں رہتے ہوئے غائبانہ نمازِ جنازہ کا تو تصور ہی نہیں ہوتا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی پہلے تو اس کے بارے میں خبر نہیں تھی وہ گمشدہ تھی اب پتہ چل گیا کہ وہ قتل کر دی گئی ہے اس کی موت یقینی جب ہو گئی ہے تو پھر جنازہ پڑھنا چاہیے مسلمان کا اخری حق ہے اگر اس کی ڈیڈ باڈی مل جائے قبر پتہ چل جائے تب بھی ٹھیک ہے نہ ملے تو غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔
اس کا تو جنازہ ہوا ہی نہیں ہے پڑھنا چاہیے اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔ آمین
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ
سائل: شیخ انہوں نے دریا میں پھینک دی تھی 2021کے اندر کنفرم اب ہوا ہے پہلے نہیں تھا بس یہی تھا کہ کوئ کہتا تھا زندہ اکثریت کہتی تھی زندہ نہیں اب ملزم گرفتار ہوا ہے اس نے تسلیم کیا ہے۔
جواب: جی نماز جنازہ ادا کر لیں۔
فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ




