سوال 7135

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسجد کی چیزیں لوہے کی سیڑھی ۔ ہاتھ والی ٹرالی یا اس کے علاوہ دوسری چیزیں محلے کے لوگ وقتی طور پر لے کر جاتے ہیں اور استعمال کرنے کے بعد واپس کر دیتے ہیں۔
کیاایسے مسجد کی چیزیں استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر انتظامیہ کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ اجازت دے دیں، تو پھر ٹھیک ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اگر انتظامیہ اجازت دے تو پھر بھی کیا استعمال کرنا جاٸز ہے؟
آج اس بات پر بحث ہوئی کہ جاٸز نہیں۔ حدیث نھیں ملتی کہ مسجد کی چیزیں کسی نے استعمال کی ہوں؟ تھوڑأ وضاحت سے بتا دیں۔
جواب: اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا۔
جیسا کہ ابھی بات ہوئی کہ یہ چیز سنت سے ثابت نہیں ہے، تو اگر ہم ہر معاملے کو اسی ترازو میں تولیں گے تو پھر تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ہر بات پر یہی اعتراض ہوگا کہ یہ حدیث میں کہاں ہے یا سنت سے کیسے ثابت ہے؟ اصل غور طلب بات یہ ہے کہ سنت سے ثابت ہونا کہتے کسے ہیں اور اسے پرکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ یہ ایک علمی بحث ہے۔
بطور طالب علم ہم نے جتنا پڑھا اور سمجھا ہے، وہ یہی ہے کہ مسجد کی انتظامیہ یا کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کچھ پابندیاں لگائیں یا ضرورت کے مطابق گنجائش پیدا کریں۔ یہ خالصتاً انتظامی معاملات ہیں۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا مسجد میں جنگی مشقیں کرناجسے بعض روایات میں رقص سے بھی تعبیر کیا گیا ہے آخر اسے ہم کس درجے میں رکھیں گے؟ کیا یہ سنت ہے یا اسے کسی اور زمرے میں لیا جائے گا؟ اس کی دلیل کیا بنے گی؟
بات سادہ سی ہے، اس وقت نبی کریم ﷺ خود حاکمِ وقت اور سب سے بڑے اختیار والے تھے۔ اگر آپ ﷺ نے انہیں روکا نہیں، بلکہ سیدہ عائشہ صدیقہ بھی وہاں موجود تھیں اور خود نبی ﷺ نے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی فرمائی، تو اس سے اس عمل کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ جب ہم ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر معاملے پر غور کرتے ہیں، تبھی جا کر اصل حقیقت اور شریعت کی منشا واضح ہوتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ