سوال 7060

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا:
ایک مسلمان لڑکی کا بورڈ کا امتحان ہے، لیکن امتحانی انتظامیہ کی طرف سے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ حجاب اتار کر امتحان دے حتی کہ سر کے اوپر کیپ بھی نہیں لے سکتے صرف پینٹ اور کرتا پہننا ہے اس کے علاوہ انٹری نہیں ہوتی جبکہ وہ لڑکی شرعی پردہ کرنا چاہتی ہے اور بغیر حجاب کے غیر محرموں کے سامنے آنا اس کے لیے مشکل ہے۔
اس صورتحال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ مجبوری کے تحت حجاب اتار سکتی ہے یا اسے امتحان چھوڑ دینا چاہیے؟
(انڈیا سے سوال)

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں ایسے معاملات جہاں بھی ہو رہے ہیں وہاں مسلمان ایک سے زیادہ رہتے ہیں ان کو اعتراض کرنا چاہیے اور مسلم کمیونٹی سے مدد لینی چاہیے اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کے لیے یہ مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی ایک سازش ہے۔ اگر حالات بالکل سازگار نہ ہوں، تو ایسے امتحان میں نہ بیٹھنا ہی بہتر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیاوی تعلیم کی ایک حد ہونی چاہیے، پرائمری یا مڈل تک پڑھ لینا بھی کافی ہے۔ اصل اہمیت تو ہماری دینی تعلیم کی ہے، کیونکہ وہی ہمارے کام آئے گی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ