سوال 7059

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن مجید میں لفظ آسمان جمع جبکہ زمین مفرد آیا ہے، تفصیل سے وجہ بیان کردیجے گا۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن میں “سماوات” کا لفظ آسمانوں کے لیے جمع میں آیا ہے، لیکن “ارض کا جمع استعمال نہیں ہوا۔ اس کی چند وجوہات ہو سکتی ہیں، اور علماء نے اس پر مختلف آراء پیش کی ہیں۔
1) زمین کی وحدت: زمین کو انسانی زندگی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اور قرآن مجید میں عام طور پر انسانوں کی رہائش کی جگہ کے طور پر اسی ایک زمین کا ذکر ہے۔ قرآن کے اکثر مخاطب لوگ اسی زمین پر بستے ہیں، اس لیے اسے واحد کے صیغے میں ذکر کیا گیا ہے۔
2) آسمانوں کی سطحیں: “سماوات” میں مختلف سطحیں یا آسمانی درجات مراد لیے جاتے ہیں، جیسا کہ سات آسمانوں کا ذکر قرآن میں ملتا ہے۔ ان سطحوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا واضح ہے، جبکہ زمین کو ایسا درجہ بندی والا تصور نہیں دیا گیا۔
3) ارض کا مختلف مفہوم: اگرچہ “اراضین” جمع میں بھی استعمال ہوتا ہے اور روایات میں آتا ہے، لیکن قرآن میں زمین کو عام طور پر تمام کائنات میں موجود زمینوں کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے اسی ایک زمین کو مراد لیا گیا ہے، جہاں انسان اور مخلوقات آباد ہیں۔
4) بلاغت کا اسلوب: قرآن مجید کا اسلوب بھی اس میں شامل ہے۔ اس میں لفظوں کا چناؤ ایک خاص حکمت اور معنوی بُعد کے ساتھ کیا گیا ہے، تاکہ انسان اسے اپنے سیاق و سباق میں بہتر طور پر سمجھ سکے۔
لہذا، قرآن مجید میں “ارض” کا جمع نہ ہونا بلاغت اور معنویت کے لحاظ سے ایک خاص حکمت پر مبنی ہے، جسے قرآن کی خصوصیت اور اسلوب میں سمجھا جا سکتا ہے۔

فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ