سوال 7057
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام ایک حوالہ مطلوب ہے؟ مرفوع حدیث کو موقوف روایت پر ترجیح حاصل ہے؟
والمرفوع مقدم على الموقوف
المفهم (١/ ٣٩٤).
أحاديث العقيدة التي يوهم ظاهرها التعارض في الصحيحين دراسة وترجيح ١/٣٨٥ — سليمان بن محمد الدبيخي (معاصر)
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مرفوع حدیث جس میں تمام شروط صحت موجود ہوں موقوف روایت پر مقدم ہے کہ وہ نبی و رسول صلی الله علیہ وسلم کا قول و فعل ہے جو حجت و وحی ہے جبکہ صحابی کا قول وعمل غیر وحی ہے تو معارض ہونے کے سبب حدیث مرفوع کو ہی ترجیح دیں گے یہی قرآن وسنت کی ادلہ و قرائن بتاتے ہیں۔
اور اگر مرفوع و موقوف باعتبار طرق و اسانید کے ہے تو یہاں ہم اصول حدیث اور ائمہ علل و نقاد کے منہج کے مطابق فیصلہ کریں گے اگر مرفوع بیان کرنے والے اوثق واحفظ ہیں تو انہیں کی روایت کو ترجیح ہو گی اور اگر موقوف بیان کرنے والے اوثق واحفظ ہیں تو اسے ترجیح دیں گے یعنی راجح موقوف ہونا ہی ہے۔
اور کبھی ائمہ علل ونقاد سے جسے راجح قرار دیں گے اسے ہی راجح مانیں گے چاہیں وہ مرفوع ہو یا موقوف ہو
البتہ شرعی اعتبار سے مرفوع حدیث موقوف پر مقدم ہوتی ہے جب اوپر والا اختلاف نہیں ہو۔
اس کی تفصیل کتب اصول حدیث اور کتب علل میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ایک جگہ حافظ نووی نے کہا:
ﻫﺬا اﻟﻜﻼﻡ ﻻ ﻳﻘﺪﺡ ﻓﻲ ﺻﺤﺔ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﺭﻓﻌﻪ ﻷﻥ ﺃﻛﺜﺮ اﻟﺮﻭاﺓ ﺭﻓﻌﻮﻩ ﻗﺎﻝ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﺭﻭاﻳﺔ اﻟﺮﻓﻊ ﺃﺻﺢ ﻭﻗﺪ ﻗﺪﻣﻨﺎ ﻓﻲ اﻟﻔﺼﻮﻝ اﻟﺴﺎﺑﻘﺔ ﻓﻲ ﻣﻘﺪمة اﻟﻜﺘﺎﺏ ﺃﻥ اﻟﺮﻓﻊ ﻣﻘﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻮﻗﻒ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺬﻫﺐ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻋﺪﺩ اﻟﺮﻓﻊ ﺃﻗﻞ ﻓﻜﻴﻒ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﺃﻛﺜﺮ
شرح النووي على مسلم
اقل اگر اوثق واحفظ ہیں تو انہی کی روایت کو ترجیح دیں گے محض عدد کا فائدہ نہیں الا کہ کوئی خاص سبب ہو یا ائمہ علل ونقاد اسے قبول کریں۔
آسانی کے لئے علل الحدیث، العلل للدارقطنی، أحاديث معلة ظاهرها الصحة جیسی کتب دیکھیں۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




