سوال 7081

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہبند کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5784]
بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے عذر تھا، یا وہ اپنا ازار اوپر رکھتے تھے لیکن کبھی کبھار نیچے ہو جاتا تھا۔
لیکن اصل دلیل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عمل میں نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے فرمان میں ہے۔ اگر غور کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ: “اگر تمہارا ازار کبھی نیچے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔”
بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو یہ کام تکبر کے لیے کرتے ہیں۔”
یعنی نبی ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ میں ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہوں جو تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، نہ کہ یہ حکم ہر ایک کے لیے یکساں ہے۔ تم ان میں شامل نہیں ہو۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ازار بھی کبھی کبھار نیچے ہو جاتا تھا، اور عرب کے مشرکین بھی ایسا کرتے تھے۔ لیکن یہاں نبی ﷺ کا مقصد مشرکین کے تکبر کی تردید کرنا اور مسلمانوں کو یہ تعلیم دینا تھا کہ لباس میں تکبر نہ کرو۔
امام امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو نقل کیا اور اس پر یہ باب قائم کیا: “باب: جو شخص بغیر تکبر کے اپنا ازار نیچے کرے۔”
یعنی اگر کوئی شخص تکبر (غرور) کی نیت کے بغیر، عادت، غفلت یا کسی اور وجہ سے کپڑا نیچے رکھے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہوتا جو تکبر کرنے والوں کے لیے آئی ہے۔
کیا یہ استدلال درست ہے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ استدلال غلط ہے
شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا بذات خود تکبر کی علامت ہے۔
ابوداود#4084

وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنْ الْمَخِيلَةِ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ

اپنی چادر آدھی پنڈلی تک اونچی رکھا کرو،اور اگر نہ کر سکو تو ٹخنوں تک کر سکتے ہو۔(ٹخنوں سے نیچے) چادر لٹکانے سے بچنا۔بیشک یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا
سندہ ,صحیح
تنبیہ:
یہ کسی حدیث میں نہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ٹخنے ننگے نہ کرنے کی اجازت تھی۔ بلکہ اس حدیث سے مراد ہے کہ جب مکمل کوشش کے باوجود کبھی خودبخود لٹک جائے تو اس پر آپکو کوئی گناہ نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ یہ عذر کی صورت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ