سوال 7076

ایک دوست پوچھتے ہیں جنت و جہنم کے متعلق بھی رہنمائی فرمائیں.
کیا یہ وجود میں آ چکی ہیں یا نہیں؟ آچکی ہیں تو کہاں ہیں؟ نہیں تو قرآن کریم میں ان کا بار بار تذکرہ کیوں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
جنت اور جہنم اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، قرآن وسنت کے واضح دلائل کی روشنی میں اہل حق کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ اس وقت موجود ہیں جبکہ بعض گمراہ فرقے اس طرف گئے ہیں کہ جنت اورجہنم کی ابھی تخلیق نہیں ہوئی اور ایسا ہوئے ازوئے عقل محال ہے،انہی گمراہ فرق میں سے ایک فرقہ معتزلہ بھی ہے،جس کا یہی نظریہ ہے کہ جنت اس وقت موجود نہیں ہے۔
صحیح حدیث کے مطابق جہنم میں پتھر کا پھینکا جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جہنم معرض وجود میں آچکی ہے، تبھی تو پتھر کو جہنم میں پھینکا گیا تھا۔
معراج کے موقع اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جنت اور جہنم کا مشاہدہ کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنت اور جہنم معرض وجود میں آچکی ہیں ۔۔
نیز محدثین کرام کے قائم کردہ بعض ابواب سے ثابت ہوتا کہ جنت جہنم کا وجود ہے۔
1) امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح جامع میں باب قائم کرتےہیں:
باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ والنار وانھا مخلوقۃ.
اس باب کے تحت بے شمار آیات اور تقریبا 20 کے قریب احادیث ذکر کرتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا تبویب قائم کرنا اور آیات پھر احادیث کو ذکر کرنا، اس کا مقصد یہ ہے کہ امام بخاری ان فرقہ ضالہ کا رد کرنا چاہتےہیں جو جنت اور جہنم کے وجود کو نہیں مانتے۔
اور مزید الگ سے جہنم کے بارہ میں باب قائم کیا ہے:
باب صفۃ النار وانھا مخلوقۃ
اس باب کے تحت بھی امام بخاری متعدد آیات اور تقریبا10کےقریب احادیث نقل کرتے ہیں۔
2) امام طحاوی رحمہ اللہ عقیدہ طحاویہ میں فرماتے ہیں:
والجنۃ والنار مخلوقتان۔
3) امام دارمی رحمہ اللہ اپنی سنن میں باب قائم کرتے ہیں:
باب صفۃ الجنۃ واھلھاوما اعد للصالحین فیھا
4) امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ اپنی مصنف میں باب قائم کرتے ہیں: باب ما ذکر فی الجنۃ وما فیھا مما أعد لأھلھا

فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ