سوال 7113
شیخ صاحب! اگر کوئی شخص اپنا کاروبار کر رہا ہو تو وہ اس میں کتنا نفع رکھ سکتا ہے؟ شرعی طور پر اس کی کیا حدود مقرر ہیں؟
اگر وہ کسی چیز پر زیادہ منافع وصول کرتا ہے تو کیا وہ جائز ہوگا یا ناجائز؟ براہِ کرم اس بارے میں تھوڑی رہنمائی فرما دیں کہ کام کاج میں منافع کی حد کیا ہونی چاہیے۔ جزاک اللہ۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
جہاں تک نفع کی حد کا سوال ہے، تو دینِ اسلام نے جائز منافع کی کوئی خاص حد مقرر نہیں کی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ ملتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی چیز پر 100 فیصد تک بھی کما سکتے ہیں۔ یعنی اگر سو روپے کی چیز ہے تو اس پر سو روپیہ نفع رکھ کر بھی بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ گاہک اپنی خوشی سے اسے خریدنے پر تیار ہو۔
البتہ، اگر اشیاء کی قلت ہو، قحط جیسی صورتحال ہو یا لوگوں کو اس چیز کی سخت ضرورت ہو، تو ایسی صورت میں ذخیرہ اندوزی کرنا یا اسے بلیک میں مہنگا بیچنا انسانیت کے خلاف اور زیادتی ہے۔ یہ گناہ کا کام ہے۔ عام حالات میں جب چیزیں بازار میں وافر مقدار میں موجود ہوں، تو آپ نفع لینے میں آزاد ہیں کیونکہ شریعت نے یہاں کوئی پابندی نہیں لگائی۔
بس اس بات کا خیال رکھیں کہ کام میں ایمانداری ہو، سچ بولیں اور جھوٹ سے بچیں۔ اسلام نے قیمتیں خود مقرر نہیں کیں بلکہ اسے مارکیٹ پر چھوڑا ہے، جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔ اس لیے دل کھول کر اور دیانت داری سے کمائیں، اس میں ان شاء اللہ کوئی حرج یا برائی والی بات نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




