سوال 7112

السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
تارک نماز کے متعلق تفصیل سے رہنمائی فرما دیں کہ نماز کو سستی کی بنا پر چھوڑنے والا اس کا کیا حکم ہے اور کفر کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
دیکھیں، نماز چھوڑنا گناہِ کبیرہ تو ہے ہی، لیکن اس معاملے میں تھوڑی سنجیدگی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ جو شخص مستقل مزاجی سے نمازیں چھوڑ دیتا ہے، اس کے بارے میں اکثر اہلِ علم نے کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ جامع ترمذی کی ایک روایت کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی بھی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے سوائے نماز کے۔ یعنی ان کے نزدیک جان بوجھ کر نماز چھوڑنا انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے۔
اب یہاں مقصد فتویٰ بازی کرنا نہیں ہے، بلکہ نصیحت اور پیار سے یہ بات لوگوں تک پہنچانا ہے کہ بے نمازیوں کے احکامات مختلف ہو سکتے ہیں۔ ہمیں علمی طور پر یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کفر کی دو بڑی قسمیں ہیں: ایک ‘کفرِ اکبر’ جو انسان کو اسلام کے دائرے سے ہی باہر کر دیتا ہے، اور دوسرا ‘کفرِ اصغر’ جس سے انسان اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا لیکن وہ گناہ کے اعتبار سے بہت بڑا اور سنگین گناہ ضرور ہے۔ اس لیے ہمیں اس پہلو پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ صاحب، اللہ آپ کو دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے۔
معذرت کے ساتھ آپ کو دوبارہ زحمت دے رہا ہوں، بس ایک مسئلہ ذرا تفصیل سے سمجھنا تھا؛ ایک تو وہ شخص ہے جو کلمہ پڑھنے اور مسلمان ہونے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ نماز ضروری نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ بس دل میں ایمان ہونا کافی ہے اور نماز چاہے پڑھو یا نہ پڑھو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے شخص کے بارے میں تو واضح ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔
میرا سوال اس شخص کے بارے میں ہے جو اصولی طور پر تو نماز کو فرض مانتا ہے مگر اس کی ادائیگی میں سستی کرتا ہے۔ یعنی کبھی پڑھ لی اور کبھی چھوڑ دی۔ مثلاً کبھی ایک دو دن بالکل نہیں پڑھی اور پھر چند دن پڑھنا شروع کر دی، تو اس کے بارے میں علمائے کرام کا صحیح اور راجح موقف کیا ہے؟ ذرا پھر سے اس کی وضاحت فرما دیں، اللہ آپ کو خوش رکھے۔
جواب: پہلے تو ہمارا خیال کچھ اور تھا، لیکن اب اہل علم کی رائے یہ سامنے آئی ہے کہ ایسے لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بجائے ہمیں ان کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ جان بوجھ کر نمازیں چھوڑنا گناہِ کبیرہ ہے، کیونکہ اسلام میں صرف ایک یا دو نمازیں پڑھنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔
دین میں تو مکمل داخل ہونا ضروری ہے، پر چونکہ وہ کبھی کبھار نماز پڑھ لیتے ہیں، اسی بنیاد پر علما انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتے۔ البتہ انہیں سختی سے سمجھانے اور خبردار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کے پاس شرعی اختیار یا طاقت ہو، تو وہ صورتحال مختلف ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال ہم سب دعوت و تبلیغ کے میدان میں ہیں، اس لیے ہمیں پیار اور بہترین انداز سے بات کرنی چاہیے۔
حقیقت یہی ہے کہ جو شخص اللہ کا منکر نہیں، توحید پر یقین رکھتا ہے، رسالت اور ختمِ نبوت کا اقرار کرتا ہے، اور فرشتوں، کتابوں اور تقدیر پر ایمان رکھتا ہے، اسے صرف نمازوں میں سستی کی وجہ سے ہم اسلام سے باہر نہیں نکال سکتے۔ ایسے لوگوں کو بس پیار سے سمجھانے اور دین کی طرف لانے کی ضرورت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ