سوال 7114
جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قبر میں رکھا گیا اور آپ ﷺ نے تسبیح و تکبیر کہی، تو بعد میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے (مفہوم کے مطابق) ارشاد فرمایا:
“سعد کے لیے قبر تنگ کر دی گئی تھی، حالانکہ وہ اللہ کے چنیدہ بندوں میں سے تھے، اور اس کی وجہ ان کا اپنے گھر والوں (اہل و عیال) کے ساتھ معاملے میں تھوڑی سختی تھی۔”
(کتاب: المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: 10827 / مجمع الزوائد: 3/46)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم اس کی وضاحت چاہیے۔ جبکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شامل تھے۔
اور مولانا صاحب کہتے ہیں کہ ان کا اپنی بیوی سے لہجہ سخت تھا جس کی وجہ سے ان پر قبر کو تنگ کردیا گیا
رہنمائی فرمائیں۔
جواب
دیکھیں، جہاں تک میری معلومات ہے، قبر کی تنگی یا دبانا (ضغطۃ) ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر کسی کو گزرنا ہی ہے۔ اس کی کئی توجیہات بیان کی جاتی ہیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ مرحلہ سب کے لیے طے شدہ ہے۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے بارے میں بھی نبی کریم ﷺ نے یہی فرمایا کہ اگر قبر کے دباؤ/ تنگی سے کوئی بچ سکتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے، لیکن انہیں بھی اس سے گزرنا پڑا۔ اسے آپ اس طرح سمجھ لیں جیسے ہر انسان کو کچھ مخصوص مراحل سے لازمی گزرنا پڑتا ہے۔(ان منکم الا واردھا)
رہی بات ان پر یہ الزام لگانے کی کہ وہ طہارت کا خیال نہیں رکھتے تھے یا گھر والوں کے ساتھ ان کا رویہ سخت تھا، تو یہ باتیں تحقیق سے ثابت نہیں ہیں۔ حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن ایسی باتوں کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




