سوال 7069

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ
دو ٹیمیں کرکٹ کا میچ کھیلتی ہیں دونوں ٹیمیں رقم ادا کرتی ہیں جو ٹیم جیت جائے اس کو ساری رقم انعام کے طور پر دی جاتی ہے. کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یہ صریح جوا ہے۔
جائز نہیں۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ اگر کوئی تیسرا بندہ کہتا ہے کہ جو ٹیم جیتے گی اس کو میں اتنا انعام دوں گا یہ طریقہ جائز ہے؟
بڑے بڑے ٹورنامنٹ ہوتے ہیں کرکٹ اور فٹ بال کے وہاں پر انٹری فیس ہر ٹیم ادا کرتے ہے۔ اس میں انتظامیہ اپنی طرف سے پیسے ڈالتی ہے دو انعام بناتی ہے ایک فائنل جیتنے والے کو دوسرا فائنل ہارنے والی کو باقیوں کو کچھ نہیں ملتا یہ بھی اسی زمرے میں ہوگا؟
جواب: جی یہ جائز ہے۔ اگر انتظامیہ انٹری فیس سے دیگر انتظامات پورے کرتی ہے اور انعام وہ اپنی طرف سے دیتے ہیں تو یہ جائز ہے۔
واللہ اعلم

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ سوال ہے کہ کیا کرکٹ میں ایک دوسرے سے کوئی چیز لگا کر کھیلنا مطلب اگر جو بندہ ہار جائے گا وہ بوتل پلا دے گا یا کچھ اور تو کیا یہ طریقہ جائز ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، شرط چھوٹی ہو یا بڑی، جوا بہرحال جوا ہی ہوتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں کھانے پینے میں کوئی برائی نہیں ہے، بس طریقہ تھوڑا بدل لیں۔ اگر پہلے سے یہ طے ہو کہ صرف ہارنے والا ہی پیسے دے گا، تو یہ سٹے بازی میں آ جاتا ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔
بہتر یہ ہے کہ آپ سب دوست مل کر پہلے ہی پیسے جمع کر لیں، یا پھر جو بھی اپنی خوشی سے کھلانا چاہے وہ کھلا دے۔ ہار جیت کی بنیاد پر خرچہ کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم شیخ ہمارے گاؤں میں ہر سال ٹورنامنٹ ہوتا ہے تیس ٹیمیں شامل ہوتی ہیں کرکٹ کے لیے
دو ہزار روپے انٹری فیس دی جاتی ہے ہر ٹیم کو جبکہ پہلا انعام پانچ لاکھ ہوتا ہے دوسرا تین لاکھ باقی انعام کی رقم سپانسر دیتے ہیں اس پر رہنمائی فرمائیں۔
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں، ٹیموں کے حوالے سے معاملہ بالکل صاف ہے کہ اگر آپ ہر ٹیم سے دو دو ہزار روپے لے رہے ہیں اور پھر وہی جمع شدہ رقم انعامات کی صورت میں مخصوص لوگوں میں بانٹ رہے ہیں، تو یہ سیدھا سیدھا جوا اور لاٹری کی ہی ایک شکل بن جاتی ہے۔
اس کے علاوہ اسپانسرز کے معاملے کو بھی ذرا گہرائی سے دیکھنا پڑے گا کہ کہیں وہ آپس میں تو سٹہ نہیں کھیل رہے؟ اگر تو وہ اپنی جیب سے خوشی سے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پیسے لگا رہے ہیں، ان کے کھانے پینے اور دیگر انتظامات کا خرچہ اٹھا رہے ہیں، تو پھر تو بات ٹھیک ہے۔ لیکن اگر وہاں بھی آپس میں ہار جیت پر پیسوں کا لین دین ہو رہا ہے، تو یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے۔
بات سادہ سی ہے کہ سٹہ، قمار یا جوا کسی بھی شکل میں ہو، وہ کسی صورت جائز نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ان تمام چیزوں کو دیکھنا بہت ضروری ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ