سوال 7095
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مشائخ کرام ایک جدید مسئلہ پر شرعی رائے درکار ہے۔
آج کل چھوٹی الیکٹرک سکوٹیاں بہت عام ہو رہی ہیں۔ اکثر سکوٹی خواتین کے استعمال میں ہیں۔ بہت زیادہ بچیاں اب کالج یونیورسٹی سکوٹیوں پر جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے یہ سفر اکیلا ہوتا ہے۔ بسا اوقات چھوٹے قصبوں سے شہر تک جانا ہوتا ہے۔
بسااوقات ایک شہر میں ہی دس بارہ کلومیٹر کا سفر بن جاتا ہے۔
ہر خاتون کی مجبوری بھی نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگ وقت نہیں نکالتے انہیں چھوڑنے کیلئے حالانکہ نکالا جا سکتا ہے۔ اب تعلیم کو ضروری و مجبوری قرار دیتے ہوئے یہی فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ سکوٹی استعمال کر لے۔ اسی طرح گروسری کیلئے شاپنگ مالز کا اور مارکیٹس کا چکر لگا لینا وغیرہ۔ بعض باپردہ ہو کر نکلتی ہیں اور بعض بے پردہ۔
اس صورتحال میں شرعی راہ نمائی کیا ہے؟
کیا خواتین کا کئی کئی کلومیٹرز تک کا سفر اس طرح اکیلے کرنا جائز ہے؟
جواب
السلام علیکم! خواتین اپنی ضرورت کی خاطر باپردہ ہو کر اپنے علاقے یا محلے کی حد تک باہر جا سکتی ہیں، کیونکہ اسے سفر شمار نہیں کیا جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ضروریات کے لیے نکلنے کی اجازت دی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ خواتین جب بھی باہر نکلیں، پوری عاجزی اور سادگی کے ساتھ باپردہ ہو کر نکلیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




