سوال 7030

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
کیا “بارگاہِ رِسالت مآب” لفظ کہنا درست نہیں ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہاں تک لفظ رسالت مآب کا تعلق ہے، تو اس کا لفظی معنی یہی ہے کہ رسالت کا مرجع، ماخذ، مصدر اور منبع۔ بظاہر اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، اگرچہ رسالت دراصل اللہ کا پیغام ہے، لیکن بطورِ مجاز اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی جا سکتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے:

“اِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ”۔

البتہ “بارگاہِ رسالت” کے استعمال میں تفصیل ہے:
اگر یہ الفاظ بطورِ حکایت و نقل بیان کیے جائیں، مثلاً یہ کہا جائے کہ بارگاہِ رسالت میں فلاں حاضر ہوئے، اور مقصد کسی واقعہ کو بیان کرنا ہو، تو اس میں گنجائش ہے۔ جیسے ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
لیکن اگر یہ کہا جائے کہ میں بارگاہِ رسالت میں ہدیۂ نعت پیش کرنا چاہتا ہوں یا سلام پیش کرنا چاہتا ہوں، تو اس میں یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو حاضر و ناظر سمجھا جا رہا ہے۔
لہٰذا عقیدے کے اعتبار سے، خصوصاً سلفی منہج اور کتاب و سنت کی روشنی میں، اس طرح کا استعمال درست نہیں ہوگا۔
البتہ رسالت مآب کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے، مجازی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں، جیسے میں نے مثال دی ’’انّہ لقول رسول کریم‘‘ کی۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ