سوال 7117

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز علماء کرام میرا ایک سوال ہے کیا بیع سلم فی الحیوان جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دیکھیں جہاں تک بیعِ سلم (ایڈوانس پیمنٹ) کا تعلق ہے تو جانوروں کے معاملے میں یہ بالکل جائز ہے۔ یعنی آپ جانور کی نسل، عمر اور قیمت وغیرہ پہلے سے طے کر لیں، اور قیمت پہلے ادا کر دی جائے جبکہ جانور بعد میں وصول کیا جائے۔ جمہور علمائے کرام نے دلائل کی روشنی میں اسے درست قرار دیا ہے، اور نبی کریم ﷺ کی احادیث سے بھی اس کی تائید ملتی ہے۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يُسْلِفُونَ بِالتَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلاَثَ، فَقَالَ ‏”‏ مَنْ أَسْلَفَ فِي شَىْءٍ فَفِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ‏”‏‏.‏ صحیح البخاری: 2240

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور میں دو اور تین سال تک کے لیے بیع سلم کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہے، اسے مقررہ وزن اور مقررہ مدت کے لیے ٹھہرا کر کرے۔ [صحیح بخاری: 2240]
مزید یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:

ما حكم دفع المال مقدما مقابل للحصول على حيوان أعلى قيمة بعد سنة؟ – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/RICJZ2dmSPET9lU1Z

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ