سوال 7642

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فوتگی والے گھر سے کھانا کھایا جاسکتا ھے؟
اور اگر فوتگی والے گھر کا کھانا بچ گیا ہے تو وہ محلے کے دوسرے گھروں میں تقسیم کردیں تو کیا اسے کھایا جا سکتا ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جن کی فوتگی ہو، ان کے لیے کھانا بنانے کی ترغیب دی گئی ہے، تاکہ غم کی گھڑی میں انہیں کھانا پکانے کی فکر نہ ہو.
اس لیے فوتگی والوں کو کھلانا چاہیے، نہ کہ ان سے کھانا چاہیے.
لیکن پھر بھی اگر کسی نے ان کے لیے کھانا بنایا ہے، اور وہ بچ گیا ہے، یا انہوں نے خود ہی اپنے لیے کھانا بنایا ہے، تو ضرورت مند لوگ کھا سکتے ہیں اور وہ کھانا تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اسے رسم بنانے سے گریز کیا جائے، ہمارے ہاں معاشرے میں ہر چیز کو رسم بنا لیا جاتا ہے.
دیکھنے میں آتا ہے کہ کئی لوگ فوتگی والے گھر کھانا کھانے پہنچ جاتے ہیں اور اس کھانا کھلانے کو ایک سٹیٹس اور رسم سمجھ لیا گیا ہے.. حالانکہ فوتگی والے گھر کی یا ان کے لیے کھانا بنانے والوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ہمسایوں، محلے داروں اور دیگر لوگوں کے کھانے کا بھی بندوبست کریں.
البتہ ہمارے ہاں چونکہ بعض لوگ دور دراز سے آئے ہوتے ہیں، جو حقیقت میں فوتگی والے گھر کے مہمان ہوتے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کرنا اور انہیں کھانا کھلانا یہ فوتگی والے گھر کے لیے کھانا بنانے کے زمرے میں ہی آئے گا۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ