سوال 7103

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم شیخ عموماً علماء سے سنا ہے کہ انبیاء اور اصحاب کے اجسام مبارک کو مٹی نہیں کھاتی تو کیا اسی طرح حافظ قرآن ،شہداء اور صالحین کے اجسام بھی قبر میں محفوظ رہتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
انبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد کے متعلق تو واضح حدیث موجود ہے:

“إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء”

اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے. (سنن ابی داود، نسائی )
تو انبیاء کے لیے تو یہ بات ثابت ہے
لیکن شہداء اور صالحین کے متعلق چند واقعات ملتے ہیں کے قبر کشائی کی گئی تو ان کے اجسام کو محفوظ پایا گیا، لیکن اس طرح کی کوئی حدیث ہمارے علم میں نہیں جس میں حفاظ، شہداء اور صالحین کے متعلق یہ بات کہی گئی ہو کے ان کے اجسام کو قبر کی مٹی نہیں کھاتی۔ یہ صرف انبیاء کے اجسام کے ساتھ لازم ہے کے ان کے جسم محفوظ رہتے ہیں۔
بسا اوقات اس کا ظہور شہداء و صالحین کے اجسام کے ساتھ ہوتا ہے ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کے ہر شہید اور ہر حافظ اور صالح شخص کے ساتھ یہ معاملہ ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم

فضیلۃ الباحث عمار احتشام حفظہ اللہ