سوال 7080
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں؟ کیا قربانی ہر صاحب استطاعت پر واجب ہے؟ گھر کے سربراہ کی طرف سے قربانی سب کی طرف سے کفایت کر جائے گی یا گھر کا ہر صاحب استطاعت الگ الگ قربانی کرےگا؟
جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کتاب وسنت کی رو سے قربانی کرنا سنت مؤکدہ ہے۔
فضیلۃ الباحث کامران الہی ظہیر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قربانی واجب نہیں سنت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور آپ نے کبھی ترک نہیں کی۔
سأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الأُضْحِيَةِ فَقَالَ سُنَّةٌ وَمَعْرُوفٌ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما سے قربانی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ سنت ہے اور 6خیر(بھلائی/نیکی) کا کام ہے۔
تغليق التعليق ٥/٣ — ابن حجر العسقلاني (ت ٨٥٢)
سندہ صحیح
لہذا اگر خود جانور نہیں خرید سکتے لیکن کسی کے ساتھ گائے میں شریک ہوسکتے ہیں تو پھر بھی درست ہے۔ اگر حصہ شامل کرنے کی بھی استطاعت نہیں تو قربانی نا کرنے پر بھی گناہ نہیں۔
2 گھر کے سربراہ کی قربانی سارے گھر والوں کے لیے کافی ہوتی ہے
(ترمذی#1505،سندہ صحیح)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




