سوال 7090

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا ٹیکس جو ہم حکومت کو دیتے ہیں اس کو ہی زکوٰۃ شمار کر سکتے ہیں؟ جواب ضرور عنایت فرمائیں

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دلائل کے رو سے مسلمانوں سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ البتہ گورنمنٹ نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس کے تحت کوئی ٹیکس دیتا ہے ان کے شر سے بچنے کے لیے۔ تو دے دے مگر وہ اس کو زکوٰۃ میں شمار نہیں کر سکتا۔ زکوٰۃ ایک شرعی فریضہ ہے۔ اس کی حدود متعین ہیں۔ اس کے مطابق اس کو لے کر چلے گا۔ زکوٰۃ اور ٹیکس دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ وہ ٹیکس دے کر زکوٰۃ میں شمار نہ کرے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!
اگر کسی شخص کا سالانہ 10 لاکھ انکم ٹیکس بنتا ہے تو کیا وہ اتنی یا اس سے زیادہ رقم کسی سودی اسکیمز (مثلا میوچل فنڈ، پینشن فنڈ یا اس قبیل کی کوئی اور اسکیم) سے سود کی مد میں حاصل کرسکتا ہے۔ سالانہ منافع میں سے جتنا ٹیکس بنے وہ کاٹ کر سود کی اضافی رقم خیرات کردے؟
رہنمائی فرمادیں، کیا اس طرح کرنا جائز ہوگا؟
جواب: وعلیکم السلام! دیکھیں جی، یہ طریقہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اگر ذریعہ ہی غلط ہو تو وہ کام کبھی جائز نہیں ہو سکتا۔ یہ کیسی سوچ ہے کہ لوگوں کو لوٹ کر غریبوں میں بانٹا جائے؟ اسے دینداری یا خدمتِ خلق نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام ہمیں ایسی باتوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتا، اس لیے اس کام کی کسی بھی صورت میں گنجائش نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ