سوال (1776)
کیا قرضہ لے کر قربانی کر سکتے ہیں؟
جواب
اگر آسانی سے قرض چکانے کی استطاعت ہے ، تو قرض لے کر قربانی کر سکتا ہے ۔
فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ
اگر اس کے پاس قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت ہو، اور ایسی صورت میں وہ قرض لے کر قربانی کرلیتا ہو، تو یہ بہتر اور اچھا عمل ہے۔ لیکن اس کے لیے ایسا کرنا واجب اور ضروری نہیں ہے ۔
[مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ: ۲٦؍۳۰۵]
فضیلۃ الباحث نعمان خلیق حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاته کیا قرض پیسوں سے قربانی کرنا جائز ھے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! دیکھیے قربانی کا حکم وسعت اور گنجائش سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی پر پہلے سے قرض کا بوجھ نہیں ہے اور وہ قربانی کے لیے تھوڑا بہت ادھار لے لیتا ہے، تو اللہ کی رضا کے لیے کی گئی یہ قربانی بالکل ہو جائے گی اور ان شاء اللہ اس سے مسائل بھی حل ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی پہلے ہی بہت زیادہ مقروض ہے، تو اسے چاہیے کہ پہلے قرض اتارنے کی فکر کرے۔ ہاں، اگر انسان اپنی عام زندگی کے دیگر کاموں کے لیے چھوٹا موٹا قرض لیتا رہتا ہے اور اس کے لیے ادائیگی کرنا مشکل نہیں، تو نیکی کے اس کام کے لیے بھی قرض لینے میں کوئی حرج نہیں، قربانی ہو جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




